بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اسلامی ہجری کیلنڈر کی ابتدا کب سے ہوئی؟

اسلامی ہجری کیلنڈر کی ابتدا کب سے ہوئی؟

مولانا محمد نجیب قاسمی

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے، یعنی محرم الحرام سے ہجری سال کا آغاز اور ذی الحجہ پر ہجری سال کا اختتام ہوتا ہے۔ نیز محرم الحرام ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے قرار دیے ہیں۔ اس ماہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا مہینہ قرار دیا ہے۔ یوں تو سارے ہی دن اور مہینے اللہ تعالیٰ کے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنے سے اس کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔ ماہ محرم کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اس مہینے کا روزہ رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک صاحب نے آکر پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! رمضان کے مہینہ کے بعد کس مہینے کے روزے رکھنے کا آپ مجھے حکم دیتے ہیں؟ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر رمضان کے مہینہ کے بعد تم کو روزہ رکھنا ہو تو محرم کا روزہ رکھو! اس لیے کہ یہ اللہ کا مہینہ ہے۔اس میں ایک دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی اور دوسرے لوگوں کی توبہ بھی قبول فرمائیں گے۔ (ترمذی) جس قوم کی توبہ قبول ہوئی وہ قوم بنی اسرائیل ہے، جیساکہ اس کی وضاحت حدیث میں ہے کہ عاشورہ کے دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دی تھی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی سال کی ابتدا ماہ محرم الحرام سے ہی کیوں کی گئی؟ جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ منورہ کی طرف ماہِ ربیع الاول میں ہوئی تھی۔ جواب سے پہلے چند ایسے امور ملاحظہ فرمائیں جن کے متعلق تقریباً تمام مؤرخین متفق ہیں:

ہجری سال کا استعمال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں نہیں تھا، بلکہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں صحابہ کرام کے مشورے کے بعد 17 ہجری میں شروع ہوا۔

ہجری سال کے کیلنڈر کا افتتاح اگرچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہوا تھا، مگر تمام بارہ اسلامی مہینوں کے نام اور ان کی ترتیب نہ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے، بلکہ عرصہ دراز سے چلی آرہی تھی اور ان بارہ مہینوں میں سے حرمت والے چار مہینوں (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم الحرام اور رجب المرجب) کی تحدید بھی زمانہ قدیم سے چلی آرہی تھی۔ اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں ارشادفرماتا ہے: مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے، اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے، ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ (سورة التوبہ 36)

اسلامی کیلنڈر (ہجری) کے افتتاح سے قبل عربوں میں مختلف واقعات سے سال کو موسوم کیا جاتا تھا۔ جس کی وجہ سے عربوں میں مختلف کیلنڈر رائج تھے اور ہر کیلنڈر کی ابتدا محرم الحرام سے ہی ہوتی تھی۔

اب جواب عرض ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں جب ایک نئے اسلامی کیلنڈر کو شروع کرنے کی بات آئی تو صحابہ کرام نے اسلامی کیلنڈر کی ابتدا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت یا نبوت یا ہجرتِ مدینہ سے شروع کرنے کے مختلف مشورے دیے۔ آخر میں صحابہ کرام کے مشورہ سے ہجرتِ مدینہ منورہ کے سال کو بنیاد بناکر ایک نئے اسلامی کیلنڈر کا آغاز کیا گیا۔ یعنی ہجرت مدینہ منورہ سے پہلے تمام سالوں کو زیرو( (Zeroکر دیا گیا اور ہجرتِ مدینہ منورہ کے سال کو پہلا سال تسلیم کرلیاگیا۔ رہی مہینوں کی ترتیب تو وہ عربوں میں رائج مختلف کیلنڈر کے مطابق رکھی گئی، یعنی محرم الحرام سے سال کی ابتدا۔ غرض یہ ہے کہ عربوں میں محرم الحرام کا مہینہ قدیم زمانے سے سال کا پہلا ہی مہینہ رہتا تھا، لہٰذا اسلامی سال کو شروع کرتے وقت اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس طرح ہجرت مدینہ منورہ سے نیا اسلامی کیلنڈر تو شروع ہوگیا، مگر مہینوں کی ترتیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

سورج کے نظام سے عیسوی کیلنڈر میں 365 یا 366 دن ہوتے ہیں، جب کہ ہجری کیلنڈر میں 354 دن ہوتے ہیں۔ہر کیلنڈر میں 12 ہی مہینے ہوتے ہیں۔ ہجری کیلنڈر میں مہینہ 29 یا 30 دن کا ہوتا ہے،جب کہ عیسوی کیلنڈر میں سات مہینہ 31 دن کے، چار ماہ 30 دن اورایک ماہ 28 یا 29 دن کا ہوتا ہے۔ سورج اور چاند دونوں کا نظام اللہ ہی نے بنایا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں متعدد عبادتیں ہجری کیلنڈر سے مربوط ہیں۔ دونوں کیلنڈر میں 10 یا 11 روز کا فرق ہونے کی وجہ سے بعض مخصوص عبادتوں کا وقت ایک موسم سے دوسرے موسم میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ موسموں کی تبدیلی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے۔ ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے کہ موسم کیسے تبدیل ہوجاتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس پر غور وخوض کرنے کی دعوت دینی چاہیے۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کا حکم ہے جس نے متعدد موسم بنائے اور ہر موسم میں موسم کے اعتبار سے متعدد چیزیں بنائیں، جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے باری باری آنے جانے میں اُن عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں، جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہوئے (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں (اور انہیں دیکھ کر بول اٹھتے ہیں کہ) اے ہمارے پروردگار!آپ نے یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ آپ (ایسے فضول کام سے)پاک ہیں۔ پس دوزخ کے عذاب سے ہمیں بچالیجیے۔( سورة آل عمران: 190 و 191)ہم نئے ہجری سال کی آمد پر عزم مصمم کریں کہ زندگی کے جتنے ایام باقی بچے ہیں ان شاء اللہ اپنے مولا کو راضی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ابھی ہم بقید حیات ہیں اور موت کا فرشتہ ہماری جان نکالنے کے لیے کب آجائے، معلوم نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانچ امور سے قبل پانچ امور سے فائدہ اٹھایا جائے۔ بڑھایا آنے سے قبل جوانی سے، مرنے سے قبل زندگی سے، کام آنے سے قبل خالی وقت سے، غربت آنے سے قبل مال سے، بیماری سے قبل صحت سے۔ (مستدرک الحاکم ومصنف ابن ابی شیبہ) اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن کسی انسان کا قدم اللہ تعالیٰ کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتا یہاں تک کہ وہ مذکورہ سوالات کا جواب دے دے:زندگی کہاں گزاری؟ جوانی کہاں لگائی؟ مال کہاں سے کمایا؟ یعنی حصولِ مال کے اسباب حلال تھے یا حرام؟ مال کہاں خرچ کیا؟ یعنی مال سے متعلق اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کیے یا نہیں؟ علم پر کتنا عمل کیا؟ میرے عزیز بھائیو!ہمیں اپنی زندگی کا حساب اپنے خالق ومالک ورازق کو دینا ہے، جو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، جو پوری کائنات کا پیدا کرنے والا اور پوری دنیا کے نظام کو تن تنہا چلا رہا ہے۔

ہمیں گزشتہ354 دن کے چند اچھے دن اور کچھ تکلیف دہ لمحات یاد رہ گئے ہیں، باقی ہم نے 354 دن اس طرح بھلادیے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ غرضیکہ ہماری قیمتی زندگی کے 354 دن ایسے ہوگئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ حالاں کہ ہمیں ہجری سال کے اختتام پر یہ محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہمارے نامہ اعمال میں کتنی نیکیاں اور کتنی برائیاں لکھی گئیں۔ کیا ہم نے امسال اپنے نامہ اعمال میں ایسے نیک اعمال درج کرائے کہ کل قیامت کے دن ان کو دیکھ کر ہم خوش ہوں اور جو ہمارے لیے دنیا وآخرت میں نفع بخش بنیں؟ یا ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ایسے اعمال ہمارے نامہ اعمال میں درج ہوگئے جو ہماری دنیا وآخرت کی ناکامی کا ذریعہ بنیں گے؟ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا کہ امسال اللہ کی اطاعت میں بڑھوتری ہوئی یا کمی آئی؟ ہماری نمازیں، روزے اور صدقات وغیرہ صحیح طریقہ سے ادا ہوئے یا نہیں؟ ہماری نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا ہوئیں یا پھر وہی طریقہ باقی رہا جوبچپن سے جاری ہے؟ روزوں کی وجہ سے ہمارے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوا یا صرف صبح سے شام تک بھوکا رہنا؟ ہم نے یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھا یا نہیں؟ ہمارے معاملات میں تبدیلی آئی یا نہیں؟ ہمارے اخلاق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا نمونہ بنے یا نہیں؟ جو علم ہم نے حاصل کیا تھا وہ دوسروں کو پہنچایا یا نہیں؟ ہم نے اپنے بچوں کی ہمیشہ ہمیش کی زندگی میں کام یابی کے لیے کچھ اقدامات بھی کیے یاصرف ان کی دنیاوی تعلیم اوران کو دنیاوی سہولیات فراہم کرنے کی ہی فکر کرتے رہے؟ ہم نے امسال انسانوں کو ایذائیں پہنچائیں یا ان کی راحت رسانی کے انتظام کیے؟ ہم نے یتیموں اور بیواؤں کی مدد بھی کی یا صرف تماشہ دیکھتے رہے؟ ہم نے قرآن کریم کے ہمارے اوپر جو حقوق ہیں وہ ادا بھی کیے یا نہیں؟ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی یا نافرمانی؟ ہمارے پڑوسی ہماری تکلیفوں سے محفوظ رہے یا نہیں؟ ہم نے والدین، پڑوسی اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کیے یا نہیں؟