بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

فحش گوئی

فحش گوئی

مولانا سحبان محمود

بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی، أما بعد! عن عبداللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لیس المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا بالفاحش ولا بالبذي.(رواہ الترمذي)

یعنی ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جو مسلمان ہے وہ طعنے نہیں مارتا اور نہ لعنت بھیجتا ہے اور نہ فحش گوئی کرتا ہے اور نہ بد زبانی کرتا ہے۔“

فحش گوئی یعنی بے ہودہ باتیں کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زبان سے ایسی باتیں نکالے جو شرافت وتہذیب اور شرم وحیا کے دائرہ سے خارج ہوں، جیسے کسی کو گالی دینا، طعنہ زنی کرنا یا کسی پر لعنت بھیجنا۔ اس حدیث میں فحش گوئی کی بنیادی صورتوں کو ذکر فرمایا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ بیہودہ گوئی کا تعلق یا تو خلاف تہذیب وشرافت باتوں سے ہوگا، جیسے زبان سے گالی گلوچ کرنا، کسی پر طعنہ زنی کرنا ، کسی سے بدزبانی کرنا یا کسی کو کوسنااور یا وہ گوئی سے کام لینا۔ یا فحش گوئی کا تعلق شرم وحیا کے خلاف باتوں سے ہوگا کہ ایسی باتوں کو صاف صاف اور کھلم کھلا دوسرے کے سامنے بیان کرنا جو انسانی شرم وحیا کے خلاف ہوں۔

بیہودہ گوئی کی پہلی قسم کو قرآن وحدیث میں اس کی تمام صورتوں کے ساتھ ممنوع قرار دیا گیا ہے اور بد زبانی کو بے حیائی وبے غیرتی میں داخل کر کے اس سے روکا گیا ہے ، چناں چہ ترمذی شریف کی حدیث میں آیا ہے کہ جس کے اندر حیا آجائے تو وہ اس کو زینت یعنی شرافت وعزت دیتی ہے اور جس کے اندر بد زبانی اور تند خوئی آجائے تو اس کو عیب دار بنا دیتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بد زبانی ذلت ورسوائی کا اور شرم وحیا عزت وعظمت کا سبب ہیں۔

بد زبانی اور گالی گلوچ سے مغلظ اور گندی گالیاں ہی مراد نہیں ہیں، بلکہ اسلامی تعلیمات کے اعتبار سے ہر وہ بات اس میں داخل ہے جو دوسرے کی توہین وتحقیر یا اس کی دل آزاری کا سبب ہو، حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے نہایت بلیغ اور مؤثر انداز میں ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے ماں باپ کو بُرا بھلا نہ کہے، لوگوں نے عرض کیا کہ کیا کوئی اپنے ماں باپ کو بُرا بھلا کہہ سکتا ہے؟ یعنی یہ بات تو کسی بھی شخص سے نہیں ہو سکتی۔ آپ نے فرمایا کہ جو دوسرے کے ماں باپ کو گالی دے گا تو وہ پلٹ کر اس کے ماں باپ کو ایسا ہی کہے گا، گویا اس کی گالی سبب بن گئی ہے، اپنے ماں باپ کی گالی کا، اس لیے ایسی بد زبانی نہ کی جائے۔ بخاری شریف کی حدیث میں آیا ہے کہ کسی مسلمان کو گالی دینا بہت بڑا گناہ ہے او راس سے قتل وقتال کرنا تو گویا کفر ہے … بد زبانی یا گالی گلوچ کرنا اتنا سنگین گنا ہ ہے کہ اس کی معافی اس وقت تک نہ ہوگی جب تک وہ شخص معاف نہ کرے جس کے ساتھ بد زبانی کی گئی ہے کیوں کہ یہ حقوق العباد میں سے ہے۔

حضوراکرم صلی ا لله علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو بد زبانی او رگالی دینے سے اس حد تک روکا ہے کہ اپنے زیر دستوں، اپنے نوکر چاکر او راپنے خادموں کے ساتھ بھی یہ معاملہ نہ صرف جُرم قرار دیا بلکہ اس کو دور ِ وحشت اورزمانہٴ جاہلیت کی یاد گار قرار دے کر اس سے دلوں میں نفرت بھی پیدا کر دی، بخاری شریف میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو ذر غفاری رضی الله عنہ نے اپنے غلام کو گالی دے دی، حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے تنبیہ فرمائی اور فرمایا کہ تم میں ابھی تک دورِ جاہلیت کا اثر باقی ہے، یہ تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں، جن کو الله تعالی نے تمہاری خدمت پر لگا دیا ہے، مطلب یہ ہے کہ ان سے بھائیوں جیسا معاملہ کرو۔

یہ تو وہ سنگین بد زبانی اور فحش گوئی تھی جس کا تعلق انسانوں سے تھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے تو جانوروں کو بھی گالی کوسنے کو نہ صرف یہ کہ ناپسند فرمایا، بلکہ اس پر مناسب سزا بھی دی ہے۔ چناں چہ ابوداؤد شریف میں ہے کہ آپ ایک مرتبہ سفر میں تھے، مسافروں میں ایک خاتون بھی تھیں، ان کی اس اُونٹنی نے جس پر وہ سوار تھیں کچھ شوخی کی، اس پر اس خاتون نے اُونٹنی پر لعنت بھیج دی، آپ صلی الله علیہ وسلم نے تنبیہ فرمائی اور حکم دیا کہ اس خاتون کو اُس اُونٹنی سے اتار دیا جائے، آپ نے ان کو اونٹنی سے محروم کرکے گویا سزا دی، تاکہ آئندہ ان کو عبرت ہو۔

جانوروں میں تو بہرحال جان ہوتی ہے اور ان کو تکلیف وغیرہ کا احساس ہوتا ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے تو بے جان چیزوں کوبرا بھلا کہنے اوران کو کوسنے سے منع فرمایا ہے۔ چناں چہ ابوداؤد میں ہی یہ حدیث شریف ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص کی چادر کو ہوا اِدھراُدھر اڑانے لگی، اس نے تنگ آکر ہوا پر لعنت بھیج دی تو آپ نے فرمایا کہ ہوا پر لعنت نہ بھیجو، یہ تو الله تعالیٰ کی فرماں بردار ہے او راسی کے حکم سے چل رہی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ خود ہوا جو ایک بے جان چیز ہے اسے کوئی اختیار نہیں ،بلکہ وہ تو الله تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے، چلے گی تو اسی کے حکم سے، رک جائے گی تو اسی کے حکم سے، اس کو بُرا بھلا کہنے کا مطلب تو یہ ہوا کہ اس کے چلانے والے کو برا بھلا کہہ دیا۔ اسی طرح جب پریشانیاں او رمصیبتیں کسی کو گھیر لیں تو وہ زمانہ کو بُرا بھلا کہنے لگتا ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس سے بھی روکا ہے، چناں چہ بخاری شریف میں حدیث قدسی میں آیا ہے، یعنی الله تعالیٰ کا فرمان آپ نے اُمت تک پہنچایا کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ (اے میرے بندو!) زمانہ کو بُرا بھلا نہ کہو، ابن آدم زمانہ کو بُرا بھلا کہتا ہے، حالاں کہ زمانہ تو میں ہی ہوں، میرے قبضہ میں رات دن ہیں۔ یعنی اس زمانہ کو چلانے والا اور اس میں انقلابات وحوادث پیدا کرنے والا تو میں ہوں، سب کچھ میرے حکم سے ہو رہا ہے، لہٰذا زمانہ کو بُرا بھلا کہنا گویا مجھے بُرا بھلا کہنا ہے۔

یہ ہے فحش گوئی اور بد زبانی کے سلسلہ میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ کہ جب بے جان چیزوں کے معاملہ میں زبان کی حفاظت کا اہتمام کیا جائے گا تو جانوروں کے معاملہ میں اور زیادہ، پھر بنی نوع انسان او راپنے بھائیوں کے حق میں اس سے بھی زیادہ حفاظت کا اہتمام ہو گا۔ او رجب زبان کو اس قدر قابو میں کر لیا تو اپنے عزیز واقارب اور دوست واحباب کے حق میں تو بے ہودہ گوئی کا تصور بھی نہیں آئے گا۔

وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمین․