بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اسلامی بیداری کے کام پر ایک نظر

اسلامی بیداری کے کام پر ایک نظر

مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی

 

اس وقت جو بھی عالم اسلام کے حالات کا جائزہ لے گا وہ یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ اسلامی بیداری پہلے کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے، اس کا اندازہ مسلم تنظیموں کی سرگرمیوں سے لگایا جاسکتا ہے، اگرچہ وہ غیر منظم ہیں، یہ بیداری محض خواب یا خام خیالی نہیں ہے، بلکہ اس وقت یہ بیداری تجربہ اور امتحان کے مرحلہ سے گزررہی ہے، اسی وجہ سے دشمنانِ اسلام اور ان کے ہم نوا پریشان ہیں اور اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اسلامی بیداری کے سارے راستے بند اور سوتے خشک کردیے جائیں، لیکن ان کی یہ کوشش کہ اس بیداری کو روک دیں اور اسلامی ضمیر وشعور کو مردہ کردیں، اسی طرح ناکام ہوگی جیسے ماضی میں ان کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں جب کہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی، ان کی تاریخ کو مسخ کیا، ان میں جہا لت عام کی، مسلم بچوں کی صحیح اسلامی تعلیم وتربیت کے نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی اور ان کو خود کفیل ہونے سے روک دیا۔

یہ کوششیں جو علم وفن اور بحث وتحقیق کے نام پر شروع کی گئی تھیں اور حکومت کی حمایت بھی حاصل تھی، اسلامی بیداری کو روکنے میں ناکام رہیں اور ان کی تمام داخلی اور خارجی سازشیں ایک ادھورا خواب بن کر رہ گئیں اور اسلام غالب رہا اور اب یورپ میں بھی اسلام کو مقبولیت حاصل ہورہی ہے، اس کی نمایاں دلیل وہاں جگہ جگہ مساجد اور اسلامی مراکز کا قیام ہے، اسلامی بیداری کو روکنے کی کوشش خود اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام ایکطاقت ور اور زندہ مذہب ہے، تو دوسری طرف اسلامی ممالک میں اسلامی شریعت کو نافذکرنے کی کوشش بھی ہورہی ہے۔

یہی وہ ممالک ہیں جو نظام تعلیم وتربیت، تہذیب وتمدن اور ذرائع ابلاغ کے استعمال میں یورپ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور میڈیا کو کھلے عام زہر پھیلانے کی چھوٹ دے رکھی ہے، مغرب کی غلامی کی دعوت دے رہے ہیں، مغربی تہذیب کو سراہ رہے ہیں اور اس کے انسانی جرائم کو چھپا رہے ہیں، اسلامی بیداری سے توجہ ہٹا رہے ہیں، بلکہ اسلامی تحریک کو کچل رہے ہیں، امت کی ناگواری وناراضگی کے باوجود مخالف طاقتوں کو گلے لگارہے ہیں اور اسلام پسندوں کی نقل وحرکت پر قدغن لگائی جارہی ہے، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ دشمنوں کو مسلمانوں ہی میں سے ایسے افراد مل رہے ہیں جو ان کے مقاصد پورا کررہے ہیں۔

اسلام کے خلاف مخصوص اہل فکر وفن کی آوازوں پر ملت کوئی توجہ نہیں دیتی اور بدلتے ہوئے حالات اور اسلامی جذبہ سے بھرا ہوا ماحول ان کے موافق بھی نہیں، اگران کو اسلامی ممالک کے نام ونہاد مسلم حکام کی پشت پناہی حاصل نہ ہوتی اور اسلام پسندوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں نہ ہوتیں تو بیمار ذہنیت کے حامل روشن خیال اور بکے ہوئے قلم یہ جرأت نہ کر پاتے کہ مسلم اکثریت کے دین، تہذیب اور تاریخ کے خلاف ایک لفظ بھی نکالیں اور اگر یورپ کے تابع نظا مہائے حکومت کی حمایت وتائید نہ ہوتی تو مسلم قوم کی ناراضگی، اس کی دینی غیرت وحمیت ان طفیلی عقلوں کو سبق سکھادیتی۔

عالم اسلام میں طفیلی عقل کا عہد ختم ہوگیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ مغرب کے غلبہ کے بعد قائم ہونے والے نظام حکومت سا م راج کا آلہ کار تھے، اور سیاسی واقتصادی اور سماجی فلسفوں نے عالم اسلام کو اختلاف وانتشار اور غلامی کے علاوہ کچھ نہیں دیا اور آج عالم اسلام میں جو انتشار وافتراق اور ٹکراؤ نظر آرہا ہے، وہ مغرب کے سیاسی اور فکری سام راج کا نتیجہ ہے۔

خطرہ کی بات یہ ہے کہ نام نہاد اسلامی مفکرین، جو مغربی ذہنیت کے مالک ہیں، اسلام مخالف افکار کا نمونہ پیش کررہے ہیں، نو خیزقلم کاروں سے ایسی کتابیں لکھوائی جارہی ہیں، جو کتاب وسنت سے ہٹ کر، اسلام کی تشریح وتوضیح پیش کرتی ہیں اور اس کا مقصد اسلام کو اندر سے کمزور کرنا ہے، جس کی بنا پر ایسے ایسے واقعات پیش آرہے ہیں جو فتنہ وفساد کا باعث ہورہے ہیں اور اسلامی معاشرہ میں استحکام اور اتحاد واتفاق کی فضاہم وار کرنے کی راہ میں روڑہ بن رہے ہیں۔

عالم اسلام قدرتی ذخائر ومعدنیات سے مال مال ہے، اہم عالمی گزرگاہیں اسی میں ہیں، اس کو جغرافیائی اور اسٹراٹیجک پوزیشن حاصل ہے، زبردست افرادی طاقت کا مالک ہے اور اس کے فرزند عظیم صلاحیتوں کے مالک ہیں، اس سب کی بنیاد پر وہ صرف روس وامریکہ ہی پر نہیں، بلکہ پوری دنیا پر اسرائیل سے زیادہ اثر انداز ہوسکتا اور اپنی بات منواسکتا ہے، لیکن آپسی اختلاف اور حکومت اور قوم کے درمیان حائل خلیج نے اس پر پانی پھیر دیا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ حکام اور قوم کے درمیان دوریاں ختم ہوں، آپسی اختلاف دور کریں اور ایک دوسرے کے معاون ہوجائیں، عوام کی طرح قائدین میں بھی بیداری پیدا ہو اور ان کو اپنے حقیقی دوست دشمن کی پہچان ہوجائے، اگر مسلم قوم ایسا کرے تو دشمنوں کے سارے سہارے ختم ہوجائیں اور ان بڑی طاقتوں کے اصل چہرہ سے پردہ اٹھ جائے، جن پر اسلامی ممالک بھروسہ کرتے ہیں اور اسلام مخالف نظام اور نظریات ختم ہوجائیں، ساری سازشیں اور ہتھکنڈے ناکام ہوجائیں،سارے فلسفے کسی کام کے نہ رہ جائیں اور پھر عوام اور اسلامی اور عربی حکومتوں کے سامنے کوئی چارہ نہ رہ جائے، سوائے اس کے کہ وہ اپنی حقیقت اور اصلیت کی طرف واپس آجائیں اور اگر ایسا نہیں کیا تو ان کا انجام بھی ماضی کی بھولی بسری قوموں کی طرح ہوگا، اب وقت آگیا ہے کہ اسلامی ممالک فیصلہ کریں کہ وہ آزادی کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں یا ماضی قریب کے ممالک محروسہ کی طرح رہنا چاہتے ہیں ،جس کا سلسلہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد شروع ہوا تھا؟

صلیبی غلبہ اور مسلمانوں پر یورپی ملکوں کی بالادستی کا سبب ان میں دینی روح کی بیدار تھی اور یہ احساس تھا کہ اگر وہ نہیں جاگے تو مسلمان ان کو ختم کردیں گے، دوسری طرف پوپ اور پادریوں نے عیسائیوں میں انتقام کی روح پھونک دی اور پورے یورپ کو مسلمانوں کے خلاف متحد کردیا اور مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے ہر میدان میں کوشش کی، چناں چہ پورا یورپ مذہب کے نام پر متحد ہوگیا۔

مسلمان وہ امت ہیں جس میں سب سے زیادہ اتحاد واتفاق اور یکجہتی اور یگا نگت ہونی چاہیے، اس لیے کہ ان کی عبادت بھی اتحاد کا مظہر ہے، جس کانمونہ مساجد پیش کرتی ہیں اور حج تو اس کا بہترین نمونہ ہے کہ مسلمان اس عبادت کی ادائیگی میں ایک لباس میں ملبوس ہوتے ہیں، ان کا شعار ایک ہوتا ہے، ایک ہی احساس کے ساتھ، ایک خدا کی کبریائی بیان کرتے ہیں، اور خدائے واحد لا شریک لہ کو بیک آواز پکارتے ہیں۔ پھر ان کے درمیان یہ اختلاف کیوں؟

مسلمانوں کا طرز زندگی اور ان کے معاملات زندگی وحدت سے عبارت ہیں، مسلمانوں کو ہر معاملہ میں باہمی مشورہ کی تلقین کی گئی ہے، عفو ودرگزر، حلم وبردباری، صبر وضبط، تحمل وبرداشت، ایثار وقربانی مسلمانوں کے اوصاف بتائے گئے ہیں، چناں چہ مسلمان زیادہ حق دار تھے کہ وہ وحدت کو اپنا شعار بناتے، زندگی کے تمام شعبوں میں وحدت جلوہ افروز ہوتی، لیکن آج مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان میں سب سے زیادہ آپسی اختلاف وانتشار، عناد ودشمنی، بغض وحسد، جنگ وجدال او رانتقام کا جذبہ پایا جا تا ہے، یہ کھلا تضاد ہے، جو اسلام کی روح کے منافی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم قائدین اپنے اندر خود اعتمادی وخودی پیدا کریں، غلامی کے طوق سے نکل کر آزادی کی فضا میں سانس لیں، نئے سا م راج کے چنگل سے نکل کر اسلامی تشخص اور اسلامی شناخت کو مضبوطی سے تھام لیں، دشمن سے دوری اختیار کریں اور سب سے بڑھ کر ایمان ویقین کی قوت سے لیس ہوں اور ہمہ وقت ان کے دل ودماغ میں یہ تازہ رہے کہ وہ بہترین امت ہیں، جو لوگوں کی نفع رسانی کے لیے بھیجی گئی ہے اور مستقبل مسلمانوں کا ہے۔