بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اسلام، امن و سلامتی کا پیام بر !

اسلام، امن و سلامتی کا پیام بر !

محترم عبدالرشید طلحہ نعمانی

اسلام امن و سلامتی کا علم بردار اور محبت و خیرسگالی کو فروغ دینے والا مذہب ہے ؛جس میں ظلم و تشدد کی مطلق گنجائش نہیں،خوف و دہشت کا کوئی تصور نہیں،ذات پات اور رنگ ونسل کی بنیاد پر تفریق کا بالکل جواز نہیں۔ مذاہب عالم کے غیرجانب دارانہ مطالعہ کے بعد پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ انسانی جان کے احترام و وقار اور امن و اطمینان کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق کو دین اسلام نے جس درجہ اہمیت و اولیت دی ہے ،کسی مذہب نے نہیں دی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو کوئی کسی کو قتل کرے ،جب کہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلے لینے کے لیے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اورجو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ (المائدہ:32)

اسی طرح حجة الوداع کے تاریخی موقع پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے اس عظیم خطبہ میں، جو انسانیت کے لیے دائمی منشور اور حقوق و فرائض کے حوالہ سے مکمل دستور کی حیثیت رکھتا ہے ،اس بات پر زور دیا کہ ناحق کسی کا خون نہ بہایا جائے ، چناں چہ ارشاد فرمایا: تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ایک دوسرے کے لیے ایسی ہی حرمت رکھتی ہیں جیسے تمہارے اسی مہینے ( ذی الحجہ) میں، تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) او رتمہارے اس دن کی حرمت ہے ۔ تم سب اپنے پروردگار سے جاکر ملوگے ، پھروہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ لہٰذا میرے بعد پلٹ کر ایسے کافر یا گم راہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ (صحیح بخاری، باب حجة الوداع، صحیح مسلم )

یعنی کسی شخص کو ناحق قتل کرنا کافروں اور گم راہوں کا کام ہے ، نیز ایک دوسرے کو کافر یا گم راہ کہہ کر قتل کرنا شریعت مطہرہ میں گناہ وجرم ہے ۔ علامہ ابن قیم فرماتے ہیں:”اسلام عدل ،سچائی اورامن پسندی کادین ہے ؛ یہی وجہ ہے کہ محدثین کرام نے اسلام کو امن وسلامتی کے ساتھ لوگوں تک پہنچایا ہے ۔انتہا پسندی اورفرقہ واریت کا خاتمہ قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنے اور منہجِ سلف کو اختیار کرنے ہی سے ممکن ہے ۔“

اسلام قتل و خوں ریزی کے علاوہ فتنہ انگیزی، دہشت گردی اور جھوٹی افواہوں کی گرم بازاری کو بھی سخت ناپسند کرتا ہے، وہ اس کو ایک جارحانہ اور وحشیانہ عمل قرار دیتاہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اصلاح کے بعد زمین میں فساد برپا مت کرو(الاعراف:56)۔

امن ایک بہت بڑی نعمت ہے ؛جس کو قرآن نے عطیہ الٰہی کے طور پر ذکر کیا ہے ،فرمایا:”اہل قریش کو اس گھر کے رب کی عبادت کرنی چاہیے جس رب نے انہیں بھوک سے بچایا، کھانا کھلایا اور خوف و ہراس سے امن دیا۔“ (القریش:4)

اسلام میں امن کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایاجاسکتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت (حرم مکہ)کو گہوارہٴ امن قرار دیاگیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ”اس کے سایہ میں داخل ہونے والا ہر شخص صاحب امان ہوگا۔“( آل عمران:97)

یہ اسلامی تعلیمات ہی کا فیضان ہے کہ بعثت محمدی کے بعد رافت ورحمت،ہم دردی و رواداری اورامن و شانتی کے حیرت انگیز مناظر سامنے آئے اور دنیا میں بڑی بڑی حکومتوں کے اندر انسانی جان کی ناقدری کے خوف ناک واقعات اور ہول ناک حادثات آمد اسلام کے بعد موقوف ہوئے اور دہشت وخون ریزی سے عالم انسانیت کو نجات ملی، انہیں تعلیمات کے باعث ایک مختصر مدت میں عرب جیسی خون خوار قوم تہذیب وشرافت کے سانچے میں ڈھل گئی اور احترامِ نفس وامن و سلامتی کی علم بردار ہوکر دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گئی، جس کا نقشہ قرآن کریم نے کچھ اس طرح کھینچا ہے : ”اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا۔“ (آل عمران: 103)

یہ حقیقت واقعہ ہے کہ اسلام نے احترام انسانیت کی جگہ جگہ تلقین کی ہے ،جملہ انسانوں کو ایک پالنے والے کی رعایا اور ایک باپ کی اولاد بتلایا ہے ؛کیوں کہ انسان ہی سے کائنات آباد وشاد ہے ،اسی سے دنیا کی مصلحتیں پوری ہوتی ہیں اور نظام حیات اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے ،تکریم نوع انسانی کے تعلق سے ارشاد خداوندی ہے :اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی۔(سورہٴ اسراء: 70)

خود نبی اکرم صلی الله علیہ وسلمنے آغاز وحی سے قبل قیام امن کے لیے جو کوشش و جدو جہد فرمائی اس کا اندازہ حلف الفضول کے اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ زبید شہر کا رہنے والا یمن کا باشندہ، مکہ مکرمہ کچھ تجارتی ساز وسامان لے کر آیا ، عاص بن وائل نے اس سے وہ سامان تجارت کے طورپر خریدلیا؛ لیکن اس کاحق دینے سے مکرگیا ۔ وہ شخص فریاد و دادرسی کے لیے سرداران قریش کے پاس گیا اور اپنا مدعا پیش کیا؛لیکن کسی نے اس کی دادرسی نہیں کی ، چوں کہ عاص بن وائل کی قریش کی نظر میں بڑی وقعت تھی، اس لیے اس کے رعب و دبدبہ کی وجہ سے کوئی اس مظلوم کی نصرت و حمایت کے لیے آمادہ نہ ہوا ۔ چناں چہ اس نے جبل ابی قبیس پر چڑھ کر چند اشعار میں اپنی مظلومیت کا نقشہ کھینچا اور انسانیت نواز افراد کو نصرت و حمایت کے لیے پکارا ۔ زبیر بن عبدالمطلب کھڑے ہوئے اور اعلان کیا کہ اس مظلوم کو اس طرح نہیں چھوڑ سکتے ، اس کی حمایت کرنا ہمارا فریضہ ہے ۔پھر آپ نے دیگر قبائل کے سرداران سے تبادلہٴ خیال کیا اور ذوالقعدہ کے مہینہ میں پانچ قریشی قبائل: بنوہاشم ،بنومطلب ،بنو اسد ، بنو زہرہ اور بنوتیم کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پایا ۔ مذکورہ قبائل کے سردار بنوتیم کے سردار عبداللہ بن جدعان کے گھر میں کھانے پر جمع ہوئے ۔ اس عہد و پیماں میں نبی اکرم صلی الله علیہ و آلہ و سلم بھی اپنے چچاؤں کے ساتھ شریک تھے ۔ معاہدہ یہ تھا کہ اگر مکہ میں کسی پر ظلم ہوا تو ہم اس کی مدد کو دوڑیں گے اور ظالم کو مکہ میں رہنے نہیں دیا جائے گا۔( السیرة النبویة ، ابن کثیر ، 1/752 کے مطابق )بنوہاشم ، بنوزہرہ اور بنوتیم بن مرہ ، عبداللہ بن جدعان کے گھر میں اکٹھے ہوئے اور الله تعالیٰ کے نام پر باہمی معاہدہ کیا کہ جب تک سمندروں میں پانی موجود ہے اور جب تک حرا اور شبیر پہاڑ اپنی جگہ موجود ہیں ، وہ ظالم کے خلاف مظلوم کی حمایت میں یکجاں ہوں گے حتی کہ اسے اس کا حق مل جائے، نیز آپس میں ہم دردی اور غم خواری کا سلوک کریں گے ۔

آپ صلی الله علیہ وسلم اعلان نبوت کے بعد انسانیت پر مبنی تاریخی معاہدہ کا ذکر فرماتے اور فرمایا کرتے : میں عبدالله بن جدعان کے مکان پر ایک ایسے معاہدہ میں شریک ہوا کہ مجھے اس کے عوض سرخ اونٹ بھی پسند نہیں اور اگر مجھے اس کے لیے دور اسلام میں بلایا جاتا تو میں اسے یقینا قبول کرلیتا۔ (الرحیق المختوم )

پچھلی چاردہائیوں میں دور حاضر کا سب سے زیادہ پریشان کن مسئلہ، جس نے انسانیت کو شعلہ زن آگ میں دھکیل دیا اور جس کی لپیٹ میں پورا عالم جھلس رہاہے، وہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے ، اضطراب وبے چینی اور خوف ودہشت پھیلانے کا مسئلہ ہے ۔

احادیث ِنبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں اتنی کثرت سے ایسے مضامین وارد ہوئے ہیں جو ایک عام ذہن والے کو بھی یہ سمجھانے کے لیے کافی ہیں کہ دین اسلام کی تعلیمات و ہدایات میں انسانی زندگی کے لیے وہ بہترین راہ نمائی ہے جو نہایت خوش گوار اور خوش حال، پُرامن اور پُرمسرت زندگی کی ضامن،پیار والفت، سلامتی و عافیت، راحت و رحمت اور ہر طرح کے فوز وفلاح کی باعث ہے ۔ وہ دین جو نماز کے لیے وضو میں مسواک پر زیادتی اَجرکی خوش خبری سناتا ہے کہ منھ سے بدبو نہ آئے، تاکہ مسجد میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوسرے نمازیوں کو کراہت محسوس نہ ہو، وہ دین، جو حلال جانور کو بھوکا پیاسا ذبح کرنے سے منع کرتا ہے ،تاکہ جان نکلنے میں تکلیف و دقت نہ ہو، وہ دین جو رہ گزر سے کانٹے دور کرنے پر ثواب بتاتا ہے، تا کہ راہ چلنے والوں کو دشواری نہ ہو، وہ دین جو جانور کی جان محض تلف کرنے کے لیے شکار کو پسند نہیں کرتا اور کسی جان کا بھی مُثلہ کرنے(صورت و حلیہ بگاڑنے ) کی سختی سے ممانعت کرتا ہے ، وہ دین، جو کسی کی عزت، جان، مال کے ناحق معمولی سے نقصان کو بھی گناہ عظیم بتاتا ہے ، وہ دین، جوباہمی محبت کو ٹھیس پہنچانے والی بیماری غیبت وچغلی کو زنا جیسی برائی سے زیادہ سخت بتاتا ہے ،کیااس دین پر دہشت پھیلانے اور نفرت کو عام کرنے کا الزام مبنی بر انصاف ہوسکتا ہے ؟؟؟

اسلام ،اہل اسلام اور مدارس اسلامیہ کے خلاف پروپیگنڈہ باعث حیرت و استعجاب ہے۔