بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اسبابِ مصائب او ران کا علاج

اسبابِ مصائب او ران کا علاج

مولانا محمد عاشق الہٰی

حضرت ابن عمر رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک روز ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ اے مہاجرین! پانچ چیزوں میں جب تممبتلا ہو جاؤ اور خدانہ کرے کہ تم مبتلا ہو ( تو پانچ چیزیں بطور نتیجہ) ظاہر ہوں گی، (پھر ان کی تفصیل بیان فرمائی کہ ) جب کسی قوم میں کھلم کھلا بے حیائی کے کام ہونے لگیں تو ان میں ضرور طاعون او رایسی ایسی بیماریاں پھیل پڑیں گی جو ان کے باپ داداؤں میں کبھی نہیں ہوئیں اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگے تو قحط اور سخت محنت او ربادشاہ کے ظلم کے ذریعے ان کی گرفت کی جائے گی او رجو لوگ اپنے مالوں میں زکوٰة روک لیں گے، ان سے بارش روک لی جائے گی ( حتی کہ ) اگر چوپائے ( گائے ، بیل، گدھا، گھوڑا وغیرہ) نہ ہوں تو بالکل بارش نہ ہواور جو قوم الله جل شانہ او راس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے عہد کو توڑے گی، خدا ان پر غیروں میں سے دشمن مسلط فرمائے گا، جو ان کی بعض مملوکہ چیزوں پر قبضہ کر لے گا او رجس قوم کے بااقتدار لوگ الله کی کتاب کے خلاف فیصلے دیں گے او راحکام خداوندی میں اپنا اختیار وانتخاب جاری کریں گے تو وہ خانہ جنگی میں مبتلا ہوں گے۔ (ابن حبان)اس حدیث پاک میں جن گناہوں اور مصیبتوں پر ان کے مخصوص نتائج کا تدکرہ فرمایا ہے وہ اپنے نتائج کے ساتھ اس زمین پر بسنے والے انسانوں میں موجود ہیں۔ سب سے پہلی بات جو آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی یہ ہے کہ: جس قوم میں کھلم کھلابے حیائی کے کام ہونے لگیں گے، ان میں ضرور طاعون پھیلے گا او رایسی ایسی بیماریاں بکثرت ظاہر ہو ں گی، جو ان کے داداؤں میں کبھی نہ ہوئی ہوں گی، آج بے حیائی کس قدر عام ہے اور سڑکوں، پارکوں، کلبوں او رنام نہاد قومی او رثقافتی پروگراموں میں، عرسوں اور میلوں میں، ہوٹلوں اور دعوتی پارٹیوں میں جس قدر بے حیائی کے کام ہوتے ہیں، ان کے ظاہر کرنے او ربتانے کی چنداں ضرورت نہیں، اس لیے کہ جاننے والے او راخبارات کا مطالعہ کرنے والے بخوبی واقف ہیں۔ پھر اس بے حیائی اور فحش کاری کے نتیجے میں وبائی امراض طاعون، ہیضہ، انفلوانزا وغیرہ پھیلتے رہتے ہیں او رایسے ایسے امراض سامنے آرہے ہیں، جن کے طبعی اسباب او رمعالجہ کے سمجھنے سے ڈاکٹر عاجز ہیں، جس قدر ڈاکٹر ترقی پذیر ہو رہے ہیں، اس قدر نئے امراض ظاہر ہوتے جاتے ہیں، ان امراض کے موجود ہونے کا جو سبب خالق عالم کے سچے پیغمبر صلی الله علیہ وسلم نے بتایا ہے، یعنی بے حیائیوں کا پھیلنا، جب تک وہ ختم نہ ہو گا، نئے نئے امراض کا آنا بھی ختم نہیں ہوسکتا۔ بے حیائی کیوں کر ختم ہوسکتی ہے ، جب کہ بے حیائی کے ٹریننگ اسکول سینما، تھیڑ (او رانٹرنیٹ اینڈ روئیڈ موبائل فون) اور بے پردگی کو زندگی کا اہم جزبنا لیا گیا ہے، رقص وسرود، عریانی اور فیشن آرٹ بن گئی ہے اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ پہلے تو ان کاموں کو گناہ سمجھ کر کرتے تھے، مگر اس دور کے مغربیت زدہ قلم کار اورفلم کار ناچ رنگ اورعریانی وبے حجابی کو اسلامی کام بتانے لگے ہیں اور اس سلسلے میں من گھڑت حدیثوں اور بے سند روایتوں او رحکایتوں کا سہارا لیتے ہیں یا پھر آیات واحادیث کا غلط ترجمہ کرکے امت کو بہکاتے ہیں۔

دوسری بات آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمائی کہ جو قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگے گی ، قحط اور سخت محنت او ربادشاہ کے ظلم کے ذریعہ ان کی گرفت کی جائے گی، ناپ تول میں کمی کرنا، یعنی گاہک کو کم تول کر دینا یا ناپ کم کر دینا گناہ کبیرہ ہے، جو دنیا وآخرت کی نعمتوں سے محروم ہونے کا بڑا سبب ہے۔ قرآن شریف میں فرمایا:

”خرابی ہے کم کرنے والوں کے لیے کہ جب ناپ تول کر لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں او رجب لوگوں کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں، کیا ان کو یہ گمان نہیں کہ ان کو ایک بڑے دن میں اٹھایا جائے گا جس روز کہ لوگ رب العالمین کے حضور میں کھڑے ہوں گے؟“ (سورہٴ مطففین)

بارہا مختلف صوبوں اور علاقوں میں جو قحط (آج کل آٹا، چینی کی قلت) نمودار ہوتا رہتا ہے، جس سے حکومتیں اور عوام پریشان رہتے ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ ناپ تول میں کمی کرنا، جب کھانے پینے کی چیزیں کم دست یاب ہوں تو رزق مہیا کرنے کے لیے سخت محنت بھی کرنی پڑتی ہے، جس کا حدیث شریف میں ذکر ہے۔ دور حاضر کی حکومتیں غیر ملکوں سے گیہوں اور چاول حاصل کرکے یا بچوں کی پیدائش میں کمی کرنے کی تحریک چلا کر اور سائنس کے اصول پر کھیتی باڑی کو ترقی دے کر روزی کی کمی کو دور کرنا چاہتی ہیں، ذمہ داروں کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے غذا کی فراوانی ہو جائے گی، حالاں کہ جب تک کاروبار او رمعاملات میں ایمان داری اور امانت داری سے کام نہ لیا جائے گا، غذائی حالات نہیں سدھریں گے۔ جاہلیت کے زمانے میں عرب کے لوگ اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کر دیتے تھے کہ بچے کہاں سے کھائیں گے؟ قرآن شریف میں ارشاد ہے :” اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے مار نہ ڈالو، ان کو اور تم کو ہم رزق دیں گے، بے شک ان کا قتل جرم عظیم ہے۔“ (بنی اسرائیل)

خدا وند عالم فرماتے ہیں کہ تم کو او رتمہاری اولاد کو ہم رزق دیں گے او رخدا فراموش انسان اپنے آپ کو رزق کا ذمے دار سمجھتے ہیں، عرب کے جاہل اولاد پیدا ہونے کے بعد رزق کھلانے کے ڈر سے قتل کر دیتے تھے اوردور ِحاضر کے نام نہاد ترقی پسند، مہذب لوگ رزق کھلانے کے خوف سے افزائش نسل ہی کے دشمن ہیں، طریقہ کار میں فرق ہے، مگر نظریہ ایک ہی ہے۔ تمام تدبیروں سے زیادہ کارگر اور صحیح ترین تدبیر یہ ہے کہ عوام وخواص ایمانی اورروحانی تربیت حاصل کریں،اعمال صالحہ کو اختیار کریں،حق دبانے، پیسے کمانے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے باز آئیں، ورنہ رزق کی کمی، پے درپے قحط، سخت محنت او رحکومتوں کے جانی او رمالی مظالم کی چکی میں پستے رہیں گے۔

ایک حدیث میں ہے کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے ناپ تول کرنے والوں سے فرمایا:” دو چیزیں تمہارے سپرد کی گئی ہیں (یعنی) ناپنا اورتولنا، ان دونوں کے بارے میں گزشتہ اُمتیں ہلاک ہوچکی ہیں۔“ (ترمذی عن ابن عباس)

تیسری بات آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی کہ: ”جو لوگ زکوٰة روک لیں گے، ان سے بارش روک لی جائے گی، اگر چوپائے نہ ہوں تو بالکل بارش نہ ہو“ ۔معلوم ہوا کہ زکوٰة کی ادائی نہ کرنا بھی بارش کے رک جانے او رقحط پڑ جانے کا سبب ہے، مال داروں نے کس قدر زکوٰة روک رکھی ہے، اس کا اندازہ اپنے اپنے علاقے میں ہر ہوش مند لگاسکتا ہے؟ سزا کا حق تو یہ تھا کہ زکوٰة ادا نہ کرنے کے جرم عظیم او رگناہ کبیرہ کی پاداش میں ذرا بھی بارش نہ ہو، لیکن الله پاک اپنی بے بس مخلوق، یعنی جانوروں اور چوپائیوں کے لیے کچھ نہ کچھ بارش بھیج دیتے ہیں، جس کی وجہ سے انسانوں کو بھی تھوڑا بہت رزق مل جاتا ہے، کتنی شرم کی بات ہے کہ انسان خود اس لائق نہ رہے کہ باران ِ رحمت کے مستحق ہوں، بلکہ جانوروں اور چوپایوں کے طفیل ان کو پانی نصیب ہو اور کاشت کرنے کا موقع ملے، پھر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بارش ہو جانے ہی سے پیداوار ہونا لازم نہیں ہے، بارش زیادہ ہو جانے سے بھی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں او رکبھی پیداوار زیادہ ہو جائے تو ساتھ ہی بے برکتی بھی آجاتی ہے، اگر الله تعالیٰ سے تعلق ٹھیک ہو اورحقوق وفرائض کی ادائی کا دھیان ہو تو بارش ہمیشہ باران ِ رحمت بن کر آیا کرے اور اس کے ذریعہ جو پیداوار ہو، اس میں برکت ہو۔

ایک حدیث میں ارشا دہے کہ حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الله کی حدود میں سے کسی حد کا قائم کرنا، اس بات سے بہتر ہے کہ الله کے شہر میں چالیس رات بارش ہو ۔ (رواہ ابن ماجہ)

یعنی چالیس رات کی بارش میں وہ خوش حالی نہ ہو گی جو ایک حد کے قائم کرنے سے میسر آئے گی۔

نیز ایک حدیث میں ہے کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قحط یہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو، بلکہ قحط یہ ہے کہ بارش پر بارش ہو اور زمین کچھ نہ اُگائے۔ (رواہ مسلم)

حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم جب بارش آتی دیکھتے تو بارگاہ الہٰی میں یوں عرض کیا کرتے تھے:” اے الله! ہم کو نفع دینے والی بہت بارش عنایت فرما۔“ یعنی مطلق بارش کی دعا کی بجائے نفع دینے والی بارش کی دعا فرماتے تھے، کیوں کہ بارش سے ضرر بھی پہنچ جاتا ہے، مثلاً سیلاب آجاتا ہے یا او رکوئی حادثہ ہو جاتا ہے ۔ دور ِ حاضر کے عقلاء پیدا وار بڑھانے کی بہت تدبیریں سوچتے ہیں، لیکن ساتھ ہی خدائے پاک کی نافرمانیوں کو دعوت بھی دیتے ہیں اور زکوٰة نکالنے والوں کو اور اس کی ترغیب دینے والوں کو دقیانوسی ملّا کہہ کر زکوٰة کی اہمیت اور عظمت بھی گھٹاتے جاتے ہیں، پھر بھلا روزی کی فراوانی کیوں کر ہو اور بارانِ رحمت کا نزول کیسے ہو؟

چوتھی بات حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمائی کہ جو قوم خدا اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے عہد کو توڑ دے گی، خدا تعالیٰ ان پر غیروں میں سے دشمن مسلط فرمادے گا، جو ان کی مملوکہ چیزوں پر قبضہ کر لے گا، اس پیشین گوئی کا مظاہرہ بھی نظروں کے سامنے ہے، الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے ہم نے عہد کیا ہے کہ اس کو تو سب ہی جانتے ہیں، یعنی یہ کہ ہم الله کو رب ، رزاق ،حاجت روا، دنیا وآخرت کا مالک اور اپنا معبود مانیں گے او راس کے حبیب پاک فخر ِ عالم صلی الله علیہ وسلم کے طریقے پر چلیں گے، اس قول وقرار کے تقاضے پر ہم جب تک کار بند رہے عالم پر بھاری تھے، فتح ہمارے قدم چومتی تھی اور دشمن مغلوب تھے، جدھر کو نکل جاتے تھے بلند او ربالا ہو کر ہی رہتے تھے، مگر جب الله تعالیٰ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے عہد کو توڑا تو مفتوحہ ممالک قبضے سے نکلنے لگے اور ہم مغلوب ہوتے چلے گئے، دشمنوں کے محکوم بن گئے، جنہوں نے ہمارا قتل عام کیا، ہمارے اموال واملاک کو لوٹا اور وہ کچھ کیا جو تصور سے بھی باہر ہے۔

پانچویں بات حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمائی کہ جو لوگ کتاب الله کے خلاف احکام جاری کریں گے، وہ خانہ جنگی میں مبتلا ہوں گے۔ اس ارشاد کا مصداق بھی آنکھوں کے سامنے ہے، آج کی دنیا میں غیر مسلم حکومتیں تو درکنار ،مسلم حکم ران وافسران اور عہدیداران ناحق احکام جاری کرتے ہیں اور اس کے قوانین پر عمل پیرا ہونے اور اسلام کے نظام عدل وانصاف پر چلنے کو فرسودہ خیالی اور دقیانوسیت سے تعبیر کرتے ہیں، اپنا دستور کتاب الله کو بنانے کے بجائے سیکولر اسٹیٹ(لامذہب ریاست) کا اعلان کرنے کو فخر سمجھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں اگر ہم نے الله کی کتاب کو اپنے ملک کا دستور بنایا تو بین الاوقوامی دنیا میں ناک کٹ جائے گی۔

آج مسلم ممالک کا حال نظروں کے سامنے ہے، چوں کہ الله تعالیٰ کی کتاب کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں اور یورپ یا امریکا کے نظام جمہوریت کی مقررہ دفعات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں، اس لیے لا محالہ آپس کی خانہ جنگی میں مبتلا ہیں، وزارتیں حزب مخالف کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ٹوٹتی رہتی ہیں او رمسلم سلاطین، وزراء کے قتل تک کی نوبت آجاتی ہے اور اس آپس کی خانہ جنگی کا سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ دو مسلم ملکوں میں بعض مرتبہ ایسی ان بن ہو جاتی ہے کہ غیر مسلم ممالک سے دوستی بڑھانے کو اپنے حریف مسلم ملک کے مقابلے میں ترجیح دی جاتی ہے:﴿ انا الله وانا الیہ راجعون﴾․

حدیث شریف میں دور ِ حاضر کے ماڈرن مجتہدین کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو کتاب الله کے خلاف فیصلے کریں گے اور احکام خدا وندی میں اپنا اختیار چلائیں گے۔ آج کل کے مغربیت زدہ نیم عربی داں احکام قرآنیہ میں تحریف وتغیر کرنے کے پھیر میں پڑے ہوئے ہیں، کوئی قربانی کو اضاعت مال کہہ کر ختم کرنے کا مشورہ دے رہا ہے اور کوئی سود کے جواز پر رسالہ شایع کر رہا ہے، کسی کو یہ دھن ہے کہ تعداد ازدواج کے جواز کو منسوخ کرے، کوئی سفر میں نماز کی پابندی کو تنگی اور سختی کے فریم میں فٹ کر رہا ہے، یہ لوگ قوم کے لیے آفت ہیں۔ اسلام کو پنڈتوں اور پادریوں کا دین بنانا چاہتے ہیں کہ جیسے وہ لوگ اپنے مذاہب میں حذف واضافہ اور کتربیونت کرتے رہتے ہیں، ایسے ہی ہم کو اختیار مل گیا، دنیا کی محبت دلوں کو کم زور کرتی ہے۔

حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ مصلح اعظم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ ( کفر وباطل کی) جماعتیں آپس میں مل کر تم کو ختم کرنے کے لیے اس طرح جمع ہوں گی، جس طرح کھانے والی جماعت پیالے کے آس پاس جمع ہو جاتی ہیں۔ (یہ سن کر) ایک صاحب نے عرض کیا کہ کیا ہم اس روز کم ہوں گے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس روز بہت ہو گے، لیکن اس گھاس کے تنکوں کی طرح ہو گے جس کو پانی بہا کر لے جاتا ہے، اس زمانے میں الله تعالیٰ دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکال دیں گے اور تمہارے دلوں میں کم زوری ڈال دیں گے۔ ایک صاحب نے عرض کیا: کم زوری (کا) کیا سبب ہو گا؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا سے محبت کرنے لگو گے اورموت سے گھبرانے لگو گے۔“ (ابوداؤد)

برسوں سے یہ پیشین گوئی حرف بحرف صادق آرہی ہے اور مسلمان آج اپنی حالت زار کو دیکھ رہے ہیں کہ کوئی قوم انہیں نہ عزت ووقعت کی نگاہ سے دیکھتی ہے، نہ دنیا اپنے اوپر مسلمانوں کو حکم راں دیکھنا چاہتی تھی، بلکہ اب تو بعض غیر مسلم اقوام مسلمانوں کو اپنی قلم رو میں رکھنا بھی پسند نہیں کرتیں، تمام دنیا کے مسلمان ایک ہی وقت میں ایک دم ختم ہو جائیں یہ تو کبھی ہر گز نہ ہو گا، جیسا کہ یہ پیشن گوئی بعض احادیث میں موجود ہے، البتہ ایسے واقعات گزر چکے ہیں کہ جہاں مسلمان خود حکم راں تھے، انقلاب کے بعد وہ وہاں سے جان بچا کر بھی نہ لے جاسکے، اسپین اس کی مشہور مثال ہے۔ مسلمانوں کو آج ذلت وخواری کا منھ دیکھنا کیوں پڑ رہا ہے اور کروڑوں کی تعداد میں ہوتے ہوئے کیوں غیروں کی طرف تک رہے ہیں؟ اس کا جواب خود ہادیٴ عالم صلی الله علیہ وسلم کے ارشاد میں موجود ہے کہ دنیا کی محبت اور موت کے خوف کے باعث یہ حال ہے۔

جب مسلمان دنیا کو محبوب نہ سمجھتے تھے او رجنت کے مقابلے میں (جو موت کے بغیر نہیں مل سکتی) دنیا کی زندگی، ان کی نظروں میں کچھ حقیقت نہ رکھتی تھی، گو تعداد میں کم تھے، لیکن دوسری قوموں پر غالب تھے او رالله کی راہ میں جہاد کرکے غیروں کے دلوں تک پر حکومت کرتے تھے۔ اب جو ہمارا حال ہے ہم اسے خود بدل سکتے ہیں، بشرطیکہ پچھلے مسلمانوں کی طرح دنیا کو ذلیل اور موت کو عزیزاز جان سمجھنے لگیں، ورنہ ذلت اور بڑھتی ہی رہے گی۔