بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اساتذہٴ کرام مقام اور ذمہ داریاں

اساتذہٴ کرام مقام اور ذمہ داریاں

مولانا خالد سیف الله رحمانی

حقیقت یہ ہے کہ تعلیم وتدریس نہایت ہی مقدس او رمعزز پیشہ ہے، ہر مذہب او رہر قوم میں اساتذہ کو بڑا احترام حاصل رہا ہے، کیوں کہ قوم میں جو کچھ بھلائیاں اور نیکیاں پائی جاتی ہیں اور خدمت خلق کا جو سروسامان موجود ہے، وہ سب دراصل تعلیم ہی کا کرشمہ ہے اور درس گاہیں ان کا اصل سرچشمہ۔ اسلام کی نگاہ میں انسانیت کا سب سے مقدس طبقہ پیغمبروں کا ہے، پیغمبر کی حیثیت اپنے اُمتی کی نسبت سے کیا ہوتی ہے؟ الله تعالیٰ نے متعدد جگہ اس کا ذکر فرمایا ہے اور وہ یہی کہ نبی انسانیت کا مربی او رمعلم ہوتا ہے، وہ تعلیم بھی دیتا ہے او رانسانیت کو اس علم کے سانچہ میں ڈھالنے کی بھی کوشش کرتا ہے :﴿یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ﴾․ (آل عمران:461)

اسی لیے اساتذہ کا احترام اسی قدر ضروری ہے جتنا اپنے والدین کا، حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما فقہاء ِ صحابہ میں ہیں، حدیث کی نقل وروایت اور فہم ودرایت میں بھی بڑے اعلیٰ درجہ کے مالک ہیں اور تفسیر وفہم قرآن کا کیا پوچھنا کہ امت میں سب سے بڑے مفسر مانے گئے ہیں، لیکن اس مقام ومرتبہ کے باوجود صورت ِ حال یہ تھی کہ حضرت زید بن ثابت انصاری کی سواری کی رکاب تھام لیتے تھے او رکہتے تھے کہ ہمیں اہل علم کے ساتھ اسی سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ (مستدرک حاکم:3/324)

خلف احمر مشہور امام لغت گزے ہیں، امام احمد ان کے تلامذہ میں ہیں، لیکن علومِ اسلامی میں مہارت اور زہد وتقویٰ کی وجہ سے امام صاحب کو اپنے استاذ سے بھی زیادہ عزت ملی، اس کے باوجود امام احمد کبھی ان کے برابر بیٹھنے کو تیار نہیں ہوتے او رکہتے کہ آپ کے سامنے بیٹھوں گا، کیوں کہ ہمیں اپنے اساتذہ کے ساتھ تواضع اختیار کرنے کا حکم ہے۔ (تذکرہ السامع والمتکلم،ص:78)

امام شافعی امام مالک کے شاگردوں میں ہیں، کہتے ہیں کہ جب میں امام مالک کے سامنے ورق پلٹتا تو بہت نرمی سے کہ کہیں آپ کو بار ِ خاطر نہ ہو۔ ( حوالہ سابق، ص:88)

خود قرآن مجید نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام کے واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، باوجودیکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام مقام نبوت پر فائز تھے، لیکن انہوں نے نہایت صبر اور تحمل کے ساتھ حضرت خضر کی باتوں کو برداشت کیا اور بار بار معذرت خواہی فرمائی۔ امام ابوحنیفہ کے بارے میں منقول ہے کہ اپنے استاذ حماد کے مکان کی طرف پاؤں کرنے میں بھی لحاظ ہوتا تھا، امام صاحب  نے خود اپنے صاحب زادہ کا نام اپنے استاذ کے نام پررکھا، قاضی ابو یوسف کو اپنے استاذ امام ابوحنیفہ سے ایسا تعلق تھا کہ جس روز بیٹے کا انتقال ہوا اس روز بھی اپنے استاذ کی مجلس میں حاضری سے محرومی کو گوارا نہیں فرمایا۔

بد قسمتی سے اب اساتذہ اور طلبہ (بالخصوص نئے فضلاء) کے درمیان محبت واحترام کا یہ جذبہ مفقود ہے، طلبہ اپنے اساتذہ کو ایسی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ گویا وہ ان کے حریف اور فریق ہیں، نقل و حرکت اور نشست وبرخاست میں ادب واحترام تو بہت دور کی چیز ہے، رودررو فقرے چست کرنے اور جملے کسنے میں بھی کوئی حجاب نہیں، ظاہر ہے اس بے احترامی اور بے اکرامی کے ساتھ کیوں کر کسی شخص سے فیض یاب ہوا جاسکتا ہے؟

جو شخص جتنے بلند مقام ومرتبہ کا حامل ہو، اسی نسبت سے اس کی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں، استاذ باپ کا درجہ رکھتا ہے؛ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو وہی محبت اور پیار بھی دے، جو ایک باپ اپنی اولاد کودیتا ہے، حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما اپنے طلبہ کی نسبت سے فرماتے تھے کہ اگر ان پر ایک مکھی بھی بیٹھ جاتی ہے تو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ (تذکرة السامع، ص:94)

سلف صالحین کو اپنے شاگردوں سے ایسی محبت ہوتی کہ ان کی نجی دشواریوں کو بھی حل کرتے، امام شافعی بڑے اعلیٰ درجہ کے فقیہ ومحدث ہیں، یہ حصول ِ علم کے لیے مدینہ پہنچے،غریب آدمی تھے، امام مالک نے اپنے اس ہونہار شاگرد کو خود اپنا مہمان بنایا او رجب تک مدینہ میں رہے، ان کی کفالت کرتے رہے، پھر جب امام شافعی نے مزید کسب ِ علم کے لیے کوفہ کا سفر کرنا چاہا تو سواری کا نظم بھی کیا اور اخراجات ِ سفر کا بھی اور شہر سے باہر آ کر نہایت محبت سے آپ کو رخصت کیا، امام شافعی کوفہ آئے اور امام ابوحنیفہ کے شاگرد رشید امام محمد کی درس گاہ میں بحیثیت طالب علم شریک ہو گئے، یہاں بھی امام محمد  نے ذاتی طور پر امام شافعی کی کفالت فرمائی، بلکہ بھرپور تعاون فرمایا، امام شافعی اس حال میں کوفہ پہنچے کہ نہایت ہی معمولی کپڑا آپ کے جسم پر تھا،امام محمد  نے اسی وقت ایک قیمتی جوڑے کا انتظام فرمایا،جو ایک ہزار درہم قیمت کا تھا، پھرجب امام شافعی کو رُخصت کیا تو اپنی پوری نقدی جمع کرکے تین ہزار درہم انہیں حوالہ کیے۔ (جامع بیان العلم لابن عبدالبر،ص:862)

امام ابویوسف  کے والد دھوبی کا کام کرتے تھے او ربڑی عسرت کے ساتھ گزراوقات ہوتی تھی؛ بلکہ اس افلاس ومجبور ی کی وجہ سے ان کے والدین کو امام ابویوسف کا پڑھنا پسند نہیں تھا، وہ چاہتے تھے کہ آپ کسب ِ معاش میں مصروف ہوں او رگھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹائیں، امام ابوحنیفہ  ان کی ذہانت اور طلب علم کے شوق سے بہت متاثر تھے، اس لیے آپ نے بنفس نفیس ان کے اخراجات برداشت کیے۔

آج کل عصری تعلیمی اداروں کی صورت ِ حال یہ ہے کہ تدریس محض درس گاہ کی ملازمت نہیں کہ آدمی تکمیل ضرورت کے لیے کچھ تنخواہ لے لے او ربے غرضی کے ساتھ اپنے شاگردوں کو پڑھائے؛ بلکہ تدریس ایک ایسی تجارت بن گئی ہے کہ جس کے لیے کسی سرمایہ اور دکان کی ضرورت نہیں، اساتذہ تاجر ہیں اور طلبہ گاہک! اساتذہ اسکولوں اور کالجوں میں قصداً غیر معیاری اسباق دیتے ہیں اور اسباق کو تشنہ رکھتے ہیں؛ تاکہ طلبہ ان سے ٹیوشن پڑھیں او رکم وقت کی زیادہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہوں، ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض دانش گاہوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے بھی ”شایان ِ شان نذرانہ“ پیش کرنا ہوتا ہے!

یہ ایسی شرم ناک بات ہے کہ شریف النفس لوگوں کے لیے اس کا تذکرہ بھی گراں خاطر ہے، ایک ایسا مقدس رشتہ جو مکمل طور پر بے غرضی پر مبنی ہے، جو ایک دوسرے سے بے لوث محبت اور بے پناہ شفقت کا متقاضی ہے اورجو تعلیم گاہیں انسانیت، محبت اور فرض شناسی کا احساس پیدا کرنے کے لیے ہیں، وہیں سے ایسی بد اخلاقی اور حرص وطمع کا سبق ملے تو پھر کون سی جگہ ہو گی جہاں انسان کو انسانیت کا سبق مل سکے گا؟

حماد بن سلمہ ایک مشہور محدث گزرے ہیں، ان کے ایک شاگرد نے چین کا تجارتی سفر کیا او رکچھ قیمتی تحائف اپنے استاذ کی خدمت میں پیش کیے، استاذ نے فرمایا کہ اگر یہ تحفے قبول کروں گا تو آئندہ پڑھاؤں گا نہیں اور پڑھاؤں گا تو یہ تحفے قبول نہیں کرسکتا۔ (الکفایة للخطیب، ص:351)

مولانا محمد قاسم نانوتوی ( بانی ِ دارالعلوم دیوبند) کا حال یہ تھا کہ صرف تیس روپے ماہانہ پر خدمت فرماتے تھے، اس درمیان بعض رئیسوں کی طرف سے تین سو او رپانچ سو روپے ماہانہ پر کام کرنے کی درخواست کی گئی تو آپ نے معذرت کر دی اور فرمایا کہ الله کے یہاں ان ہی پیسوں کا حساب دینا مشکل ہے، اگر اور زیادہ پیسے لیے جائیں تو ان کاحساب تو اور بھی دشوار ہو گا۔

مسئلہ صرف پیسوں ہی کے لین دین کا نہیں ؛ بلکہ ہر طرح کی نصیحت وہم دردی کا ہے، ابن جماعہ نے خوب لکھا ہے کہ استاذ کا فرض ہے کہ وہ اپنے لیے جو پسند کرتا ہے وہی اپنے شاگردوں کے لیے پسند کرے اور جو چیز اپنے لیے ناپسند ہے اسے اپنے شاگردوں کے لیے بھی ناپسند سمجھے۔ (تذکرہ السامع،ص:94)

استاد کو اپنے شاگرد سے بے حد محبت ہونی چاہیے اور اسے ہر وقت اس کا خیر خواہ ہونا چاہیے،جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کی ترقی پر خوش ہوتا ہے اوراس کی ناکامی پر کبیدہ خاطر، یہی تعلق ایک استاذ کو اپنے شاگردوں کے ساتھ ہونا چاہیے ، یہ تعلق بے غرض اور بے لوث ہو اور پاکیزگی پر مبنی ہو، اگر اساتذہ اپنے شاگردوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ طلبہ میں ان کے تئیں وہی احترام نہ پیدا ہو جن کا ذکر ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ تدریس کے لیے کسی شخص کا انتخاب اہلیت اور لیاقت کی بنا پر ہونا چاہیے، نہ کہ تعلقات اور دوسری بنیادوں پر؛ اس لیے کہ تدریس نہایت ہی اہم اور نازک کام ہے، مشہور بزرگ ابوبکر شبلی سے منقول ہے کہ جو شخص قبل از وقت کسی منصب پر فائزہو جائے وہ دراصل اپنی رسوائی کے درپے ہے:” من تصدر قبل اوانہ فقد تصدر لھوانہ“․ (تذکرة السامع والمتکلم:54)

اہلیت کا مطلب یہ ہے کہ جس مضمون کی تدریس اس کے حوالہ کی جارہی ہے، وہ واقعی اس مضمون میں عبور رکھتا ہو اور اپنے اخلاق وعادات کے اعتبار سے بھی انگشت نمائی سے محفوظ ہو۔

پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے مضمون پر مناسب محنت کرتا ہو اور اس کے مطالعہ وتحقیق میں ارتقا اور تسلسل ہو کہ اس کے بغیر وہ اپنے طلبہ کو کماحقہ فیض یاب نہیں کرسکتا، وہ اوقات ِ درس کا پابند ہو او راپنے وقت کو طلبہ کی امانت تصور کرتا ہو، قرآن مجید نے کم ناپنے تولنے کی بڑی مذمت فرمائی ہے اوراہل علم نے لکھا ہے کہ ناپ تول کی کمی میں یہ صورت بھی داخل ہے کہ وہ ملازمت کے اوقات میں سے کوئی حصہ اپنی ضرورت میں اور مفوضہ کام کے علاوہ کسی اور کام میں خرچ کرے، یہ بھی ایک طرح کی چوری ہے اور ان اوقات کی اجرت اس کے لیے حلال نہیں۔

اساتذہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ طلبہ کی نفسیات کا شعور رکھتے ہوں او رعملی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھاتے ہوں۔ طالب علم کے ساتھ اہانت آمیزسلوک کرنا اور اس کی تذلیل کے درپے ہونا نہایت اوچھی بات ہے اور کسی بھی طرح استاذ کے شایان شان نہیں، رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا معمولِ مبارک تھا کہ اگر کسی کی غلطی پر ٹوکنا ہوتا تو تنہائی میں توجہ دلاتے اوراگرمتعدد افراد کو اس غلطی میں مبتلا دیکھتے تو مجمع عام میں کسی کا نام لیے بغیر مبہم انداز میں توجہ دلاتے؛ کیوں کہ مقصود اصلاح ہے، نہ کہ انتقام۔ ایسا بھی ہوا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی موجودگی میں بعض لوگوں نے مسجد میں پیشاب کر دیا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس پر پانی بہانے کا حکم دیا اور کسی ناگواری کا اظہار کیے بغیر محبت کے ساتھ سمجھانے پر اکتفا فرمایا، بعض طلبہ بظاہر شر پسند ہوتے ہیں، لیکن اگر تنہائی میں بلا کر ان کی تفہیم کی جائے اور ان کی ذہانت کو تخریبی کاموں کے بجائے تعمیری کاموں کی طرف موڑ دیا جائے تو بآسانی ان کی اصلاح ہو جاتی ہے اور وہ قوم کے لیے ایک مخلص عنصر ثابت ہوسکتے ہیں۔

اساتذہ کے لیے علمی لیاقت کے ساتھ اخلاقی اقدار بھی نہایت ضروری وصف ہے، استاذ کو اتنا باوقار ہونا چاہیے کہ اس کی ایک نگاہ ِ درشت سے طلبہ سہم جائیں، اگر اساتذہ خود اخلاقی پستی میں مبتلا ہوں ، طلبہ سے سطحی گفت گو کرتے ہوں، ان کے سامنے فحش ہنسی مذاق کیا کرتے ہوں، ان کے کردار کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہو او ران کی زبان وبیان سے وقتاً فوقتاً سوقیانہ پن اور پھوہڑ پن کا اظہار ہوتا ہو ، تو بجا طور پر طلبہ ان کو اپنا بے تکلف دوست سمجھتے ہیں او راستاذ کا درجہ نہیں دیتے، کیوں کہ یہ ایک فطری بات ہے کہ انسان خود کتنا بھی برا ہو، وہ اپنے بزرگوں کو اس سے ماوراء دیکھنا چاہتا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ سماج اور قوم کی تعمیر میں اساتذہ کا بڑا رول ہے، وہ نہ صرف طلبہ، بلکہ سماج کے لیے بھی قابل احترام ہیں؛ لیکن اسی قدر ضروری یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مقام کو پہچانیں اور جیسے وہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے میں ذرا بھی کوتاہی نہیں برتتے، اسی طرح، بلکہ اس سے بڑھ کر وہ اپنے فرائض وواجبات پر بھی نگاہ رکھیں اور خود احتسابی سے بھی غافل نہ ہوں۔