بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ازدواجی زندگی کے لیے تعلیمات نبوی

ازدواجی زندگی کے لیے تعلیمات نبوی
(علی صاحبہا ألف ألف تحیة)

مولانا وسیم احمد خلیلی

سید الانبیاء والمرسلین حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کے لائے ہوئے پیغام ہدایت کو حق تعالیٰ نے تمام جہانوں کے واسطے باعث رحمت بنایا ہے۔ دنیا کا جو بھی انسان آپ صلی الله علیہ وسلم کی پیروی کرے گا اور جس شعبے میں آپ کی را ہ نمائی کو اپنائے گا ، دارین کی کام یابی سے ہم کنار ہو گا۔ اس کے برعکس زندگی کے جس شعبے میں بھی حضور صلی الله علیہ وسلم کی ہدایت سے انحراف کیا جائے گا، ناکامی ونامرادی کا سامنا ہو گا۔

اگر ہم اپنی معاشرت کو رحمت والی معاشرت، اپنی تجارت کو برکت والی تجارت اور اپنی تدبیر وسیاست کو رحمت والی تدبیر وسیاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگی کے تمام نشیب وفراز میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے رحمت والے پیغام کو دل وجان سے قبول کرنا ہو گا۔

حیات انسانی کا ایک اہم شعبہ آدمی کی ”ازدواجی زندگی“ ہے، جس میں ایک مرد اور عورت کو ہم دردی، مروت اور محبت کے ساتھ دُکھ سُکھ کا ساجھی بن کر شریک حیات بننا پڑتا ہے۔ مرد وعورت کے اس خاص ملاپ کا اسلامی نام ”نکاح“ ہے۔ زندگی کے اس اہم شعبے میں جس قدر خرابیاں اور بدمزگیاں پیدا ہوتی ہیں، اس کی وجہ اس کے سوا او رکچھ نہیں کہ شادی کرنے والا جوڑا اپنے ازدواجی تعلقات میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی عالی تعلیمات سے مستغنی ہو کر من مانی کرنے لگتا ہے، جس کا نتیجہ دونوں یا ایک کی زندگی کے لیے تباہ کن اور دوگھروں کی بربادی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس تباہی وبربادی سے بچنے کی صرف ایک صورت ہے کہ میاں بیوی اپنی من مانی اور دوسری قوموں کی نقالی کی بجائے آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔

پیش نظر مضمون میں انہی اصول وضوابط میں سے چند اصول منتخب کرکے درج کیے گئے ہیں۔ الله تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین۔

حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح کی شرطیں پوری کرنے کا سب سے زیادہ خیال رکھو ۔ (متفق علیہ)

یعنی نکاح کی بنا پر جو چیزیں تم نے اپنے اوپر لازم کر لی ہیں، ان کی ادائی کا بہت زیادہ خیال رکھو۔ مثلاً مہر ادا کرنا، بیوی کے کھانے پینے اور لباس کا خیال رکھنا، اس کے لیے مناسب رہائش کا انتظام کرنا ، اس سے اچھا برتاؤ کرنا، خوش اخلاقی سے پیش آنا وغیرہ۔ بعض لوگ زبردستی بیوی سے مہر معاف کراتے ہیں اور وہ بے چاری بھی اوپری طور پر معاف کر دیتی ہے یا ادائی سے لاپرواہی کرتے ہیں کہ وہ تو مطالبہ ہی نہیں کرتی۔ حالاں کہ یہ جائز نہیں،مہر مرد کے ذمہ عورت کا ایک قرض ہے، جو عدم مطالبہ یا زبردستی معاف کرانے سے ساقط نہیں ہوتا، جب تک کہ عورت خوشی سے معاف نہ کرے، بعضے لوگ والدین او ربھائی، بہنوں کی وجہ سے بیوی کے نان نفقہ میں تنگی کرتے ہیں کہ ساری کمائی لاکر والدین کو ہی دے دی اور بیوی بے چاری ضروری خرچے کے لیے بھی پریشان ہے، حالاں کہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی آمدن اتنی ہے کہ وہ ماں باپ پر خرچ کرے تو بیوی کو نہیں دے سکتا او راگر بیوی کو دے تو ماں باپ کے لیے نہیں بچتا، تو ایسی صورت میں بیوی پر خرچ کرنا ضروری ہے، اسی طرح بعض گھرانوں میں ساس بہو کے تعلقات کی کشیدگی بھی میاں بیوی کے رشتہ الفت میں دراڑیں پڑنے کا سبب بن جاتی ہے، یہ بھی قابل اصلاح بات ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ شخص ہم میں سے نہیں(یعنی مسلمانوں کی جماعت سے نہیں) جو کسی عورت سے اس کے شوہر کو لڑائے۔“ (مشکوٰة) یعنی بیوی کے عیوب شوہر سے بیان کرے ،تاکہ شوہر اس سے بد دل ہوجائے۔

حضرت حکیم بن معاویہ رضی الله عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول الله! ہمارے اوپر ہمار ی بیوی کے کیا کیا حقوق ہیں؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم کھانا کھاؤ تو اس کو بھی کھلاؤ ،جب تم کپڑے بناؤ تو اس کو بھی بنا کر دو، اس کے چہرے پر نہ مارو، اس کو سب وشتم نہ کرو( گالی نہ دو ) اور اس کو علیحدہ کرنے میں مصلحت ہو تو صرف بستر علیحدہ کرو( یعنی کسی مصلحت کی بنا پر اس سے ناراض ہو تو یہ نہیں کہ اس کو اس کے والدین کے گھر بھیج دو، بلکہ رکھو اپنے مکان میں،البتہ علیحدہ بستر پر آرام کرو، تاکہ اس کو تنبیہ ہو جائے)۔ (ابوداؤد)

اس حدیث میں سب سے پہلا حق بیوی کا یہ بیان کیا کہ اس کے کھانے، پینے اور لباس کا خیال رکھو، یہ نہیں کہ خود تو یاردوستوں کے ساتھ مرغ مسلم اڑارہے ہیں اور بیوی دال، روٹی پر گزارہ کر رہی ہے۔ میاں صاحب کا لباس توایسا قیمتی کہ بادشاہوں کا بھی کیاہو گا اور بیوی کے کپڑے لینے کا خیال ہی نہیں۔ حضر ت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله علیہ فرمایا کرتے تھے کہ بیوی کو کچھ رقم ہر ماہ جیب خرچ دے دو،جس کا اس سے پھر کچھ حساب نہ لو کہ کہاں خرچ کیا۔

بہترین انسان
حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہترین شخص وہ ہے جواپنے بیوی بچوں کے ساتھ سب سے اچھا سلوک کرے اور میں تم سب میں زیادہ بہتر ہوں ( سلوک کے اعتبار سے) اپنے گھر والوں کے ساتھ ( یعنی میرا سلوک اپنی بیویوں کے ساتھ تم سب میں بہتر ہے اور تم پر میرا اتباع کرنا ضروری ہے)۔ ترمذی میں انہی سے ایک اور روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اوراپنی بیوی کے ساتھ سب سے زیادہ نرمی کا برتاؤ کرتا ہو۔

معلوم ہوا کہ بیو ی کے ساتھ نرمی او رمہربانی کا معاملہ کرنا چاہیے اور خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے، کیوں کہ وہ نہایت ہی قابل رحم ہے۔ ایک تو اس بنا پر کہ وہ بے چاری ضعیف ہوتی ہے، دوسرے عاجز وبے بس ہوتی ہے، جب کہ مرد بااختیار اور زور آور ہوتا ہے۔

عورت اور ٹیڑھی پسلی
حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی میری وصیت قبول کر و،اس لیے کہ عورتیں (ٹیڑھی) پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور سب سے زیادہ ٹیڑھی پسلی اوپر کی ہے۔ پس اگر تم اس پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تو ٹوٹ جائے گی اور اگر اس کے حال پر چھوڑ دو گے تو ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہے گی، سو عورتوں کے حقوق میں میری وصیت قبول کرو۔ (متفق علیہ)

حضرات علماء فرماتے ہیں کہ عورتوں کے اندر پیدائشی طور پر اعمال واخلاق اور عادات میں کجی ہے۔ اگر مرد چاہیں کہ اس کو بالکل درست کر دیں تو نتیجتاً اس کو توڑ ڈالیں گے، یعنی طلاق تک نوبت پہنچے گی ( جیسے ٹیڑھی پسلی کو سیدھا کرنا چاہیں تو وہ ٹوٹ جائے گی) لہٰذا ان سے فائدہ اٹھانے کی یہی صورت ہے کہ شریعت کے دائرے میں ان سے اپنے معاملات اچھے رکھو اور ان کے ٹیڑھے پن کو نظر انداز کر دو،ان سے یہ توقع نہ رکھو کہ وہ سب کام تمہاری مرضی کے موافق کریں۔

عورت کی زیادتی پر صبر
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ کوئی مسلمان مرد اپنی عورت سے بالکلیہ بغض نہ رکھے، کیوں کہ اگر اس کی کوئی بات ناگوار ہو گی تو دوسری کوئی بات پسند بھی ہو گی۔ ( مسلم) کیوں کہ عورت کے تمام اخلاق وعادات بُرے نہیں ہوتے، اگر کچھ افعال بُرے ہوتے ہیں تو کچھ اچھے بھی ضرور ہوتے ہیں۔ پس ہم کو اس کی خوبیوں پر نظر کرنی چاہیے اور بُری عادتوں پر صبر کرنا چاہیے او ران کی اذیتوں اور نقصانات کو برداشت کرنا چاہیے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” او ران عورتوں کے ساتھ خوبی سے گزر بسر کرو اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ( یہ سمجھ کر برداشت کرو کہ) ممکن ہے تم ایک شے کو ناپسند کرو اور الله تعالیٰ اس کے اندر کوئی بڑی منفعت رکھ دے (مثلاً وہ تمہاری خدمت گزار اور آرام کا خیال رکھنے والی اور ہم درد ہو )۔ (سورہٴ نساء)

عورت کے جذبات کا لحاظ رکھنا
حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میری سہیلیاں بھی میرے ساتھ کھیلتی تھیں، جب حضور صلی الله علیہ وسلم تشریف لاتے تو میری سہیلیاں (شرم کے باعث) چھپ جاتیں۔ تب حضور صلی الله علیہ وسلم ان کو میرے پاس بھیج دیتے، ہم پھر کھیلنا شروع کر دیتیں۔ (متفق علیہ)

انہی سے ایک روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور صلی الله علیہ وسلم ان کے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور اوٹ سے ان کو حبشیوں کے نیزہ بازی کے کرتب دکھائے۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ عورتوں کی دل داری کرنی چاہیے او ران کے جذبات وخیالات کا لحاظ رکھنا چاہیے۔

شوہر کے حقوق … شوہر کی اطاعت کا اجروثواب
حضرت انسص روایت کرتے ہیں کہ رسول الله ا نے فرمایا: جس عورت نے پانچوں وقت کی نماز پڑھی اور رمضان المبارک کے روزے رکھے او راپنے آپ کو پاک دامن رکھا او راپنے شوہر کی اطاعت کی، ایسی عورت کو اختیار ہے جنت میں جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔ (مشکوٰة)

سبحان الله! کتنا بڑا مرتبہ ہے شوہر کی اطاعت کرنے والی نیک بیوی کا کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے کسی بھی دروازے سے داخل ہونے کا اس کو اختیار دے دیا جائے گا۔

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورت! دیکھ لے تیری جنت اور دوزخ تیرا خاوند ہے۔ ( طبقات ابن سعد) یعنی اپنے خاوند کو راضی اور خوش رکھے گی تو جنت کی مستحق ہو گی ،بصورت دیگر جہنم میں جائے گی۔

خاوند کی اطاعت کی تاکید
حضرت عائشہ رضی الله عنہافرماتی ہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم ومہاجرین وانصار کی جماعت میں تشریف فرما تھے، اتنے میں ایک اونٹ آیا اور آپ کو سجدہ کیا۔ اس پر آپ کے صحابہ کرام رضی الله عنہم نے عرض کیا: یا رسول الله! جب آپ کو جانور اور درخت بھی سجدہ کرتے ہیں تو ہم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں ۔( یہ سن کر) آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب کی عبادت کرو اور میری تعظیم کرو، اگر میں کسی کی بابت سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے اور ( خاوند کا اتنا بڑا حق ہے کہ) اگر وہ یہ کہے کہ زرد پہاڑ سے پتھر اٹھا کر کالے پہاڑ پر لے جا اور کالے سے سفید پہاڑ پر لے آ، تو عورت کے ذمہ ضروری ہے کہ اس کے حکم کی تعمیل کرے۔ (مسند احمد)

ایک حدیث میں ہے کہ جو عورت اپنے شوہر سے ناراض رہتی ہے، اس پر الله کی لعنت ہے۔ ( دیلمی) او رایک حدیث میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو اس (شوہر) کی بیوی، جو حورعین ہے، وہ کہتی ہے کہ الله تجھے ہلاک کرے، اس کو تکلیف نہ دے، کیوں کہ یہ تیرے پاس چند دن کا مہمان ہے، عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آجائے گا۔ ( ترمذی، ابن ماجہ)

نیزشوہر کی حیثیت سے زیادہ خرچ نہ مانگے، کسی ایسی چیز کی فرمائش نہ کرے جس کا مہیا کرنا اس کے بس میں نہ ہو ، کسی بات پرضد نہ کرے اور شوہر کے سامنے اس کو زبان پر نہ لائے، تاکہ مرد کورنج نہ ہو ، شوہر کوئی چیز لائے، تو خواہ پسند آئے یا نہ آئے، ہمیشہ اس پر خوشی ظاہر کرے، یہ نہ کہے کہ یہ چیز اچھی نہیں، اس سے شوہر کا دل خفا ہو جائے گا اور پھر کبھی کوئی چیز لانے کو اس کا دل نہ چاہے گا، شوہر کو کسی بات پر غصہ آگیا تو ایسی بات نہ کہے جس سے اس کا غصہ اور زیادہ ہوجائے او راگر وہ کسی بات پر ناراض ہو جائے تو خوشامد کرکے اس کو منالے، خواہ قصور اسی کا ہو اور معذرت کرکے اپنا قصور معاف کرانے کو اپنے لیے فخر وعزت سمجھے۔ وغیرہ ذالک۔

خلاصہ کلام یہ کہ اگر میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں اور دونوں ہی آپس میں نرمی ومہربانی کا برتاؤ کریں اور ایک دوسرے سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور آپس کے حقوق کے بارے میں الله سے ڈرتے رہیں تو زندگی دنیا میں ہی جنت کا نمونہ بن سکتی ہے۔ الله تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ آمین !