بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اردو لکھنے میں کی جانے والی چند غلطیاں

اردو لکھنے میں کی جانے والی چند غلطیاں

محترم محمد احمد حافظ

 

یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اس وقت برصغیر پاک وہند میں اردو زبان کو سب سے بڑا سہارا یہاں کے دینی طبقے نے دے رکھا ہے۔ ہمارے دینی مدارس میں تدریس کی عمومی زمان اردو ہے۔ امتحانی پرچہ جات اردو میں حل کیے جاتے ہیں۔ ہر سال اردو میں بے شمار دینی کتابیں شائع ہورہی ہیں۔ عربی ونصابی کتب کی اردو شروح لکھی جارہی ہیں۔ دینی دعوت کی زبان اردو ہے۔ الحمداللہ تبلیغی جماعت کی بدولت اردو زبان پورے عالم میں پھل پھول اور پھیل رہی ہے۔ بڑی تعداد میں اردو زبان میں دینی رسائل وجرائد شائع ہورہے ہیں۔ دینی مسائل ، فتاویٰ، تفسیر قرآن، سیرت نگاری، تحقیقی مقالے، سوانح، سفرنامے، تاریخ…یہ سب اردو میں لکھے جارہے ہیں۔

دوسری طرف سرکاری ونجی اسکولوں میں اردو کی جو صورت حال ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ عصری نصاب میں انگریزی کے غلبے نے اردو کو کچھ کا کچھ بنادیاہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل اپنا مافی الضمیر سلیس اردو میں ادا نہیں کرسکتی۔ وہ درست اردو بولنے سے نابلد تو ہے ہی، درست انگریزی بھی لکھ بول نہیں سکتی۔ اردوکتابت کا تو اور بھی برا حال ہے۔ بچے نویں دسویں کر کے کالج پہنچ جاتے ہیں ،لیکن انہیں الفاظ کی شناخت نہیں ہوتی اور وہ کچھ کا کچھ لکھ دیتے ہیں۔ دعویٰ یہ ہے کہ ہم اقوام عالم کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔

یہ عمومی صورت حال ہے، مگر ہمارے ہاں بھی اردو کے حوالے سے بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ اس کا اندازہ راقم کے پاس تبصرے کے لیے آنے والی کتابوں سے ہوتا ہے۔ کتاب کے سرورق سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ مصنف علام اردو میں کتنی دسترس رکھتے ہیں؟!جملوں کی بَنَت کاری، الفاظ وتراکیب کا صحیح اور برمحل استعمال خاصا قابل رحم ہوتا ہے۔ یہی حال تلفظ کا ہے،حیرت ہوتی ہے کہ جولوگ عربی صرف ونحو کی تعلیم کے مشکل مرحلے سے گزر چکے ہوں اور جنہوں نے ”جمال القرآن“بھی پڑھی ہو وہ درست لفظ کی ادائیگی اور کتابت سے معذور ہوں؟!

درست اردو بولنے کے حوالے سے استاذ پر تو بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس کے ہونٹوں سے جو لفظ ادا ہوتا ہے شاگردوں کے لیے سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ا س کے طرز ادا کو اپنے دل ودماغ میں محفوظ کرلیتے ہیں۔ استاذ کی زبان کی معمولی لغزش سینکڑوں طلبہ کو غلط فہمی میں مبتلا کرسکتی ہے۔ اس لیے ہمارے اساتذہ،خطباء، واعظین،اسی طرح مصنفین ومؤلفین کو اس طرف ضرور توجہ دینی چاہیے۔ عربی کا مقولہ ہے:جمال الإنسان في اللسان…یعنی انسانی وقار فی الجملہ گفتگو کے اچھے اور شائستہ لباس سے وابستہ ہے اور انسان کا جمال اس کی زبان میں ہے۔

اردو کے درست بول چال اور تحریر وانشاء کے لیے دوکتابیں اہم ہیں:
1…اصلاح تلفظ واملا(طالب الہاشمی مرحوم)
2…عبارت کیسے لکھیں؟(رشید حسن خان)

ان کتابوں کو ضرور مطالعہ میں رکھنا چاہیے۔ یہاں یہ بات کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں کہ اردو زبان کے تحفظ کا بار بھی اب ہمارے ہی کندھوں پر ہے۔ اس لیے ہمیں درست اور شائستہ اردو لکھنے بولنے کی طرف شعوری طور پر توجہ دینی چاہیے۔

یہاں ہم اردو لکھنے میں کی جانے والی چند غلطیوں اور درست املا کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں۔

پہلے اردو کے مرکب الفاظ الگ الگ کر کے لکھنا چاہئیں، کیوں کہ عام طور پر کوئی بھی لفظ لکھتے ہوئے ہر لفظ کے بعد ایک وقفہ (اسپیس) چھوڑا جاتا ہے، اس لیے یہ خود بخود الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ دراصل تحریری اردو طویل عرصے تک کاتبوں کے سپرد رہی، جو جگہ بچانے کی خاطر اور کچھ اپنی بے علمی کے سبب بہت سے لفظ ملا ملا کر لکھتے رہے۔ جس کی انتہائی شکل ہم آجشبکو، کیمطابق ،کیوجہ،رنجدہ وغیرہ کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔ بہت سے ماہرِ لسانیات کی کوششوں سے الفاظ الگ الگ لکھے تو جانے لگے ہیں، لیکن اب بھی بہت سے لوگ انہیں بدستور جوڑ کر لکھ رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جب یہ اردو کے الگ الگ الفاظ ہیں ، تو مرکب الفاظ کی صورت میں جب انہیں ملا کر لکھا جاتا ہے، تو نہ صرف پڑھنا دشوار ہوتا ہے، بلکہ ان کی شکل بھی بگڑ جاتی ہے۔ ذیل میں ان الفاظ کی اقسام یا طرز الگ الگ کر کے بتائی جارہی ہیں، جو دو الگ الگ الفاظ ہیں یا ان کی صوتیات /آواز کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں الگ الگ کر کے لکھنا ضروری ہے۔

٭..جب کہ، چوں کہ،چناں چہ،کیوں کہ، حالاں کہؤکے لیے، اس لیے، اس کو، آپ کو، آپ کی، ان کو، ان کیؤطاقت ور، دانش ور، نام ورؤکام یاب، کم یاب، فتح یاب، صحت یابؤگم نام، گم شدہؤخوش گوار، خوش شکلؤ الم ناک، وحشت ناک، خوف ناک، دہشت ناک، کرب ناک، خواب ناکؤصحت مند، عقل مند، دانش مندؤشان دار،جان دار، کاٹ دارؤان مول، ان جانا، ان مٹ، ان دیکھا، ان چھواؤبے وقوف، بے جان، بے کار، بے خیال، بے فکر، بے ہودہ، بے دل ، بے شرم، بے نامؤامرت سر، کتاب چہؤ خوب صورت، خوب رُو، خوب سیرت وغیرہ۔

٭…اردو لکھتے ہوئے ہمیں یکساں آواز ،مگر مختلف املا کے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے ،جیسے کے اور کہ، سہی اور صحیح، صدا اور سدا، نذر اور نظر، ہامی اور حامی، سورت اور صورت، معرکہ اور مارکہ، قاری اور کاری، جانا اور جاناں۔

٭…اردو کا اہم ذخیرہ الفاظ فارسی کے علاوہ عربی کے الفاظ پر بھی مشتمل ہے،جس میں بہت سی تراکیب بھی عربی کی ہیں، ان کو لکھتے ہوئے ان کے املا کا خیال رکھنا چاہیے، جس میں بعض اوقات الف خاموش (سائلنٹ) ہوتا ہے، جیسے بالکل، بالخصوص، بالفرض، بالغرض وغیرہ۔ جب کہ کہیں چھوٹی ”ی“ یا کسی اور لفظ پر کھڑی زبر ہوتی ہے، جو الف کی آواز دیتی ہے، جیسے وزیر اعلیٰ، رحمن اور اسحق وغیرہ، اسی طرح بہت سی عربی تراکیب میں” ل“ ساکت ہوتا ہے جیسے السلام علیکم اسے” ل“ کے بغیر لکھنا فاش غلطی ہے۔

٭… زیر والے مرکب الفاظ جیسے جانِ من(نہ کہ جانے من) جانِ جاں(نہ کہ جانے جاں) شانِ کراچی(نہ کہ شانے کراچی)فخرِ پنجاب(نہ کہ فخرے پنجاب) اہلِ محلہ(نہ کہ اہلے محلہ)وغیرہ کی غلطی بھی درست کرنا ضروری ہے۔

٭…اپنے جملوں میں مستقبل کے بارے میں گفت گو کرتے ہوئے کردینا ہے نہیں بلکہ کردیں گے لکھنا چاہیے، جیسے اب تم آگئے ہو تو تم بول بول کے میرے سر میں درد کردو گے(نہ کہ کردینا ہے) اب ٹیچر آگئے ہیں تو تم کتاب کھول کر پڑھنے کی اداکاری شروع کردو گے(نہ کہ کردینی ہے)لکھنا چاہیے۔

٭…اردو کے مہمل الفاظ میں” ش“ کا نہیں بلکہ” و“ کا استعمال کیا جاتا ہے، جیسے کتاب وتاب، کلاس ولاس،اسکول وسکول، پڑھائی وڑھائی، عادت وادت وغیرہ۔ انہیں کتاب شتاب ، کلاس شلاس لکھنا غلط کہلاتا ہے۔

٭…اردو میں دوزبر یعنی تنوین والے لفظوں کو درست لکھنا چاہیے، اس میں دو زبر مل کر” ن“ کی آواز دیتے ہیں جیسے تقریباً، اندازاً، عادتاً، اصلاً، نسلاً، ظاہراً، مزاجاً وغیرہ۔

٭…کسی بھی لفظ کے املا میں” ن“ اور” ب“ جہاں ملتے ہیں وہاں م کی آواز آتی ہے، اس کا بالخصوص خیال رکھنا چاہیے، ن اور ب ہی لکھا جائے م نہ لکھا جائے، جیسے انبار، منبر، انبوہ، انبالہ،استنبول، انبیاء، سنبھل،سنبھال، اچنبھا،عنبرین، سنبل وغیرہ۔

٭…اردو کے ان الفاظ کی درستی ملحوظ رکھنا چاہیے جو ”الف“کی آواز دیتے ہیں،لیکن کسی کے آخر میں ”ہ “ہے او رکسی کے آخر میں الف۔ انہیں لکھتے ہوئے غلطی کی جائے تواس کے معانی مین زمین آسمان کا فرق پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسے گِلہ اور گلا، پیسہ اور پیسا، دانہ او ردانا وغیرہ۔

٭…الف کی آواز پر ختم ہونے والے الفاظ چاہے وہ گول ”ہ“ پر ختم ہوں یا الف پر، انہیں جملے میں استعمال کرتے ہوئے بعض اوقات جملے کی ضرورت کے تحت جمع کے طور پر لکھا جاتا ہے ، حالاں کہ وہ واحد ہی ہوتے ہیں۔ ایسے میں جملے کا پچھلا حصہ یا اس سے پہلے والا جملہ یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ یہ دراصل ایک ہی چیز کا ذکر ہے۔ جیسے:میرے پاس ایک بکرا تھا، اس بکرے کا رنگ کالا تھا۔ میرے پاس ایک چوزا تھا، چوزے کے پر بہت خوب صورت تھے۔ ہمارا نظریہ امن ہے اور اس نظریے کے تحت ہم محبتوں کو پھیلانا چاہتے ہیں۔ جلسے میں ایک پرجوش نعرہ لگایا گیا اور اس نعرے کے بعد لوگوں میں جوش وخروش بڑھ گیا۔ ایک کوا پیاسا تھا، اس کوے نے پانی کی تلاش میں اڑنا شروع کیا۔

٭…انگریزی الفاظ لکھتے ہوئے خیال رکھنا چاہیے کہ جو الفاظ یا اصطلاحات (ٹرمز) رائج ہوچکی ہیں یا جن کا کوئی ترجمہ نہیں ہے یا ترجمہ ہے تو وہ عام طور پر استعمال نہیں ہوتا، اس لیے انہیں ترجمہ نہ کیا جائے، بلکہ انگریزی میں ہی لکھ دیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جن انگریزی الفاظ کو اردو لکھا جائے گا، ان کی جمع اردو کی طرز پر بنائی جائے گی، نہ کہ انگریزی کی طرز پر، جیسے اسکول کی اسکولوں، کلاس کی کلاسوں، یونیورسٹی کی یونیورسٹیوں ، اسٹاپ کی اسٹاپوں وغیرہ (انہیں اسکولز، کلاسز، یونیورسٹیز لکھنا درست نہیں)۔ تیسری بات یہ ہے کہ انگریزی کے بہت سے ایسے الفاظ جو ایس سے شروع ہوتے ہیں، لیکن ان کے شروع میں الف کی آواز ہوتی ہے، انہیں اردو میں لازمی طور پر الف کے ساتھ لکھا جائے گا۔ جیسے اسکول ، اسٹاپ، اسٹاف، اسٹیشن ، اسمال، اسٹائل، اسٹار وغیرہ۔ لیکن ایسے الفاظ جو شروع تو ایس سے ہوتے ہیں لیکن ان کے شروع میں الف کی آواز نہیں ہے انہیں الف سے نہیں لکھا جائے گا، جیسے سچیویشن ، سورس ، سینڈیکیٹ،سائن اوپسس وغیرہ۔