بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اردو ادب کی ترویج واشاعت .. علماء اور مدارس کا کردار

اردو ادب کی ترویج واشاعت .. علماء اور مدارس کا کردار

مولانا سفیان علی فاروقی

زبان کسی بھی قوم کے لیے اس کی پہچان سے کم نہیں ہوتی، بلکہ یوں کہنا بے جانہ ہو گا کہ زبان کسی بھی قوم کی معاشرت کی عکاس ہوتی ہے، الحمدلله ہماری قومی زبان اردو ہے اور اس میں وہ تمام صلاحیتیں پائی جاتی ہیں جو ایک متمدن قوم کی زبان میں ہونی چاہییں او راب تو اردو زبان کی اہمیت، افادیت اور ضرورت سے انکار کرنا کسی طور بھی ممکن نہیں رہا، جس کی ایک دلیل حالیہ دنوں اقوام متحدہ میں اردو زبان کو عالمی زبان قرار دیا جانا بھی ہے۔
بد قسمتی سے اردو زبان کے عملی نفاذ میں کچھ نادیدہ قوتوں کی طرف سے ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں اور موجودہ دور میں بھی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے احکامات کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں ( انہی کافرمان ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے ) لیکن پاکستانی قوم میں اردو زبان کے حوالے سے بیدار ہوتے شعورکو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان شاء الله! عنقریب قومی زبان اردو کو اس کا جائز اور حقیقی مقام مل جائے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ باوجود ہزار رکاوٹوں کے اردو زبان کو بلاتفریق رنگ ونسل اور مذہب کے ایسے لوگ میسر رہے جنہوں نے ہر دور میں اس کا علَم اٹھائے رکھا اور اس ٹمٹماتے چراغ کو اپنے جذبوں او رعقیدتوں کا تیل فراہم کرتے رہے، لیکن اگر یوں کہاجائے تو بے جانہ ہو گا کہ جس طرح اسے مسلمانوں نے اپنایا، اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی، بلکہ اس سے بڑھ کر اگر مسلمانوں کو اردو زبان کا موجد کہا جائے تو مضائقہ نہیں، بلاشبہ مسلمانوں نے اردو ربان کی بقا کی جدوجہد کو ہر سطح پر پھیلایا، جس کا اندازہ شیخ الاسلام مولانا اشرف علی تھانوی کے اس فتویٰ سے بھی لگایاجاسکتا ہے، جس کو انہوں نے اس وقت کے معروضی حالات کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے دیا تھا، شیخ  فرماتے ہیں:

”اردو زبان کی حفاظت چوں کہ دین کی حفاظت ہے، اس زبان کی حفاظت حسب ِ استطاعت واجب ہوگئی ہے اور باوجود قدرت کے اس میں غفلت اور سستی کرنا مصیبت بھی ہوگی او رموجب ِ مواخذہٴ آخرت بھی ہو گا۔“(امداد الفتاویٰ:4/652)

پھر مسلمانوں میں یہ سہرا بھی اکثر علماء اور اہل ِ مدارس کے سر رہا، جنہوں نے اسلامی علوم کی ترویج واشاعت کے لیے اردو زبان کا انتخاب کیا، اپنے نظامِ تعلیم کو اردو میں رائج کیا، مدارس میں تدریسی زبان اردو کو قرار دیا، اپنے مواعظ، تقریر وتحریر کے لیے اردو زبان کا انتخاب کیا۔ جب ہمارے عصری ادارے اپنی قومی زبان سے مایوس او رانگلش زبان سے مرعوب ہو کر، اپنے سورج سے لمعہ افروز ہونے کی بجائے ،دوسروں کے بجھے چراغوں سے روشنی لینے کی کوشش میں، بڑے شدومد سے مصروف تھے تو ایسے وقت میں علماء اور مدارس نے اردو کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر اس کی حفاظت کی، بلکہ اس میں وہ اتنے مستقیم ہوئے کہ نام نہاد دانش وروں کے طعنے بھی سنے، جدید زبانوں سے نابلد بھی کہا گیا، لیکن وہ اپنی لگن اور دھن میں مگن عوام الناس میں اردو زبان کے فروغ کی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 1835ء میں انگریز سرکار نے متحدہ ہندوستان میں فارسی زبان کی سرکاری حیثیت ختم کرکے انگریزی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا۔ اسلامی تاریخ وادب اور اسلامی علوم وفنون کا ایک بہت بڑا ذخیرہ علماء نے عربی سے فارسی زبان میں منتقل کیا تھا، جو کی عشروں سے برصغیر کی دینی وعلمی پیاس بجھا رہا تھا، ایسے کڑے وقت میں اکابر علماء نے برصغیر میں اسلام کی بقا کی جد وجہد شروع کی تو انہوں نے اردو زبان میں تمام علوم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا اور علماء او رمدارس نے اردو دان طبقہ او راسلام کے آفاقی نظام میں ایک پُل کا کام سرانجام دیا، عربی وفارسی میں موجود تمام اسلامی علوم کا اردو زبان میں ترجمہ کرنا شروع کیا، عربی میں کئی گئی جدید اسلامی تحقیقات کو بھی اردو دان طبقہ تک پہنچایا اورمزید تحقیقی ، علمی اور معلوماتی کتابوں سے لائبریریوں کی لائبریریاں بھر دیں اور آج اردو زبان میں جتنے بھی اسلامی علوم وفنون موجود اور محفوظ ہیں، ان سب کو ہم تک پہنچانے میں علماء ومدارس کی اَنتھک کاوشوں، بے لوث محنتوں، بے غرض وبے ریامحبتوں کا بہت بڑا حصہ ہے۔

علماء اور مدارس نے اردو کا دامن قرآن پاک کی تفسیروں، حدیث کے تراجم وتشریحات، ادب، تصوف، فلسفہ او رتاریخ وغیرہ سے مزین کر دیا۔ موجودہ دور میں بھی تعلیمی اداروں میں سب سے زیادہ مدارس ہی نے اردو زبان کو تدریسی زبان کے طور پر رائج کیا ہوا ہے اور ہزاروں مدارس میں موجود لاکھوں پاکستانی قوم کے فرزند اپنی قوم زبانی میں ہی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اردو زبان وادب کے فروغ اورپوری دنیا میں اردو کی ترویج واشاعت میں جن علماء نے بے پایاں خدمات سرانجام دیں، ان کا شمار تو شاید ممکن نہیں، لیکن ان میں سے چند ایک کے نام او ران کی خدمات کو برکت کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔

دیگر زبانوں کو سمجھنے کے لیے اردو میں لغات کی بہت ضرورت تھی، خاص کرکے عربی زبان کو سمجھے بغیراسلامی علوم وفنون تک پہنچنانا ممکن تھا، سو علماء نے اس سلسلہ میں کڑی محنت کی اور بے شمار علمی ذخیرہ سے بھرپور لغات مدون کیں، مثلاً:
∗… مصباح اللغات: مولانا ابو الفضل عبدالحفیظ بلیاوی۔
∗…قاموس القرآن اور بیان اللسان: مولانا قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی۔
∗… القاموس الوحید، القاموس الجدید، القاموس الاصطلاحی: مولانا وحید الزمان کیرانوی۔
∗… لغات جدیدہ: مولانا سید سلمان ندوی۔
∗…قاموس الفقہ(5 جلدیں): مولانا خالد سیف الله رحمانی
∗… القاموس الموضوعی: مولانا ندیم الواجدی ، وغیرہ وغیرہ۔
وہ علماء جنہوں نے دینی خدمات تو سر انجام دی ہیں، لیکن ساتھ ساتھ ان کی ادبی تحاریر وتقاریر، شعر وسخن میں دست رس کو بھی مقبولیت ِ عامہ حاصل ہوئی اور ایک دنیا نے ان کے علوم سے اکتساب فیض کیا، مثلاً قاسم العلوم والخیرات مولانا محمد قاسم نانوتوی (یہ فی البدیہہ شاعر بھی تھے)، مولانا یعقوب نانوتوی(بیاضِ نانوتوی، شعری مجموعہ)،مولانا محمود حسن دیوبندی (ہمہ جہت شخصیت تھے، کمال کا ذوق پایہ تھا، نہایت عمدہ شاعر بھی تھے )، علامہ انو رشاہ کاشمیری ،ان کی دینی خدمات سے کون واقف نہیں، ان کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ چلتی پھرتی لائبریری ہیں( انہوں نے 15000 اشعار کہے)، علامہ شبیر احمد عثمانی ( آپ نثر کی ایک خاص طرز کے موجد بھی ہیں)، شیخ الادب مولانا اعزاز علی، مولانا قاری محمد طیب قاسمی، مفتی عتیق الرحمن، مولانا مناظر احسن گیلانی ، مولانا احسان الله تاجور، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولوی عبدالحق ، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا ابوالحسن علی ندوی، علامہ شبلی نعمانی ، مولانا محمد حسین آزاد، مولانا حالی، مولانا حسرت موہانی، مولانا مملوک علی، مولانا عبدالماجد دریا آبادی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا محمد زکریا کاندھلوی (فضائل اعمال والے) ، مولانا محمد الیاس دہلوی ( تبلیغی جماعت والے)، مولانا عبیدالله سندھی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا منظور احمد نعمانی ، مولانا سید بدر عالم میرٹھی، مولانا ادریس کاندھلوی، مولانا شمس الحق افغانی ، مولانا قاضی اطہر مبارک پوری ، مولانا زکی کیفی (کیفیات)، مولانا محمدیوسف لدھیانوی ، جناب ولی رازی صاحب (اردد میں سیرت کی پہلی غیر منقوط کتاب”ہادی عالم“ کے مصنف) وغیرہ شامل ہیں۔

علماء اور مدارس اردو رسم الخط کی حفاظت میں بھی پیچھے نہیں رہے، بلکہ فن ِ خطاطی میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیں،چنا چہ موجودہ دور میں اردو رسم الخط ( خط ِ نستعلیق) کے مجدد استاذ العلماء، سید نفیس الحسینی شاہ صاحب  (نفیس رقم) کا نام نامی بہت نمایاں ہے، زمانہ ماضی میں خطِ نستعلیق کے استاذ حافظ ابراہیم،خط ِ نسخ ونستعلیق کے استاذ مولانا ابراہیم استر آبادی، مولوی الہٰی بخش خوشنویس، مولانا حسن بنائی، مولانا خواجہ محمود ، مولوی سید سراج الدین احمد ، مولانا سلطان الدین احمد ، ملا عبدالقادر اخوند ،مولوی نذیر الدین قریشی وغیرہ گزرے ہیں۔

یہ چند ایک نام اور دو تین شعبہ جات صرف اس لیے ذکر کیے ہیں، تاکہ ہمیں اندازہ ہو سکے کہ علماء اور مدارس نے اردو ادب کی ترویج واشاعت میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے اور ان سب چیزوں کو ان کی جزئیات سمیت ذکر کرنا اس مختصر کالم میں ممکن نہیں ہے۔