بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

إنّا لله وإنّا إلیہ راجعون کے فضائل

إنّا لله وإنّا إلیہ راجعون کے فضائل

مولانا عبدالصمد

٭… یہ کلمہ بہت سے حقائق کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور اس میں بہت بڑی تسلی ہے : اس میں اوّل تو زبان اور دل سے اس بات کا اقرار ہے کہ ہم الله ہی کے لیے ہیں۔ ہم الله ہی کے بندے ہیں، اس کی مخلوق ہیں،اس کے مملوک ہیں تو ہمیں پوری طرح اپنے مالک کے فیصلے پر راضی ہونا ضرور ی ہے۔ ہم بھی الله کے ہیں او رجوجان ومال اس نے لیا وہ بھی الله ہی کا ہے۔ اس نے جو کچھ کیا اپنی مخلوق اور مملوک میں تصرف کیا، کسی کو بولنے، اعتراض کرنے، دل وزبان سے ناراض ہونے کا کوئی حق نہیں۔

دوسرے اس بات کا اعلان اور اقرار ہے، ہم کو الله تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے تو ہم کو ہر ضائع اور فوت شدہ چیز کا ثواب مل جائے گا۔ یہ ثواب دنیا کی حقیر چیزوں سے کہیں اعلیٰ وافضل ہے، جن کے چلے جانے پر رنج ہوتا ہے۔ اپنے اعزہ واقرباء آل اولاد جو فوت ہو گئے، ان سے عارضی جدائی ہے،جہاں وہ گئے ہیں، ہم کو بھی وہیں جانا ہے۔ وہاں دارالنعیم میں ان شاء الله! ان سے ملاقات ہو جائے گی۔ (انوارالبیان، ص:258)

٭… حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ مصیبت میں یہ دعائیہ کلمات پہلی اُمتوں میں سے کسی امت کو نہیں دیے گئے۔ اگر دیے جاتے تو حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیے جاتے اور وہ فراق حضرت یوسف علیہ السلام میں ان کلمات کو پڑھتے اور ”یا أسفٰی علیٰ یوسف“ نہ کہتے۔ (مظہری:1/266)

٭… حضرت ابن عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے مصیبت کے وقت ” انا لله وانا الیہ راجعون“ پڑھا تو الله تعالیٰ اس کی مصیبت کی تلافی فرمادیں گے اور اس کی آخرت اچھی کریں گے اور ضائع شدہ چیز کے بدلے میں اچھی چیز عطا فرمائیں گے۔ (انوار البیان:1/258)

٭… حضرت ابن عباس رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ جب مومن مصیبت کے وقت اپنا معاملہ الله کے حوالے کر تا ہے اور ” انا لله وانا الیہ راجعون“ پڑھتا ہے۔ الله تعالیٰ اس کے لیے تین انعام لکھواتا ہے۔ پڑھنے والے کی بخشش کی جاتی ہے۔ الله کی رحمت اس پر نازل ہوتی ہے۔ سیدھے راستے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ (فتح الباری:3/173 ، در المنثور:1/155)

٭… حضرت حسین بن علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ مسلمان مرد یا عورت کو جو بھی تکلیف پہنچ جائے او راس کو بعد میں یاد کرے۔ اگرچہ اس کو عرصہ دراز گزر چکا ہو اور اس وقت پھر ” انالله وانا الیہ راجعون“ پڑھے تو الله تعالیٰ اس کو پھر اسی جیسا اجر عطا فرماتے ہیں ،جیسا کہ اس دن عطا فرمایا تھا جس دن اس کو مصیبت پہنچی تھی۔ (مشکوٰة:1/153، انوار البیان:1/208)

٭… ابن عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مصیبت کے پیش آنے کے وقت میری امت کو وہ دعا دی گئی جو پہلی اُمّتوں میں س ے کسی کو نہیں دی گئی۔ یعنی ” انا لله وانا الیہ راجعون“ ایک روایت میں یہ ہے کہ مجھ سے پہلے یہ دعا کسی نبی کو بھی نہیں دی گئی۔ ( المعجم الکبیر:8/384، فتح الباری:3/173)

فائدہ: سنت یہ ہے کہ” انا لله وانا الیہ راجعون“ کے پڑھنے کے بعد یہ دعا بھی پڑھی جائے۔ ” اللھم آجرنی فی مصیبتی، واخلف لی خیراً منھا․“ (روح المعانی:2/23)

٭… حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندے کا کوئی بچہ فوت ہو جاتا ہے تو الله تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ تم نے میرے بندے کے بچے کو قبض کر لیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہاں۔ پھر الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم نے اس کے دل کے پھل کو قبض کر لیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ہاں۔ الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے کیا کہا۔ وہ عرض کرتے ہیں: اس نے آپ کی تعریف کی اور” انالله وانا الیہ راجعون“ پڑھا۔ اس پر الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام ”الحمد“ رکھ دو۔ (ترمذی:1/198)

٭… حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ”انا لله وانا الیہ راجعون“ پڑھے۔ کیوں کہ یہ بھی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت ہے۔ (مشکوٰة:1/153)

٭… حضرت عکرمہ  سے روایت ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا چراغ بجھ گیا، آپ نے ” انالله وانا الیہ راجعون“ پڑھا۔ آپ کو کسی نے کہا کہ یہ بھی مصیبت ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر وہ چیز جو مومن کو ایذا پہنچائے وہ مصیبت ہے۔ (درالمنثور:1/288، الکبیر:2/289)

٭… حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے انگوٹھے میں کانٹا چبھ گیا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ” انا لله الخ“ پڑھا او راس پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ جب حضرت عائشہ  نے ” انالله“ سنا تو آپ کے قریب آگئیں اور دیکھا کہ کانٹے کے چبھنے کا معمولی اثر تھا۔ اس پر حضرت عائشہ ہنس پڑیں او رکہا کہ اے الله کے رسول! میرے ماں باپ آپ صلی الله علیہ وسلم پر فدا کہ آپ نے اس کانٹے کی وجہ سے ”انا لله“ پڑھا ہے۔ اس پر حضور صلی الله علیہ وسلم ہنس پڑے او رمیرے کندھے پر ہاتھ مارا او رکہا اے عائشہ! جب الله تعالیٰ ارادہ کرتے ہیں چھوٹے کو بڑا کرنا تو کر دیتے ہیں او رجب بڑے کو چھوٹا کرنا چاہتے ہیں تو کر دیتے ہیں۔ (درالمنثور:1/288)

٭… حضرت ابو امامہ  سے روایت ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم! صدمہ اولیٰ کے وقت صبر کر اور ثواب کی امید رکھ تو میں تیرے لیے جنت کے علاوہ کسی دوسرے ثواب پر راضی نہ ہو گا۔ (مشکوٰة:1/153، ابن ماجہ،ص:114)

٭… حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو مصیبت کے وقت ”انا لله وانا الیہ راجعون“ پڑھتا ہے الله تعالیٰ اسے اچھا بدلہ عطا فرماتا ہے اوراتنا دیتا ہے کہ وہ راضی ہو جائے۔ (مظہری:1/266)

٭… حضرت عبدالله بن عمر سے روایت ہے کہ جس میں چار عادتیں پائی جائیں گی ( یعنی چار کام کرے) الله اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔ جو شخص اپنے تمام معاملات کے وقت ” لا الہ الا الله“ پڑھتا ہے۔ جب مصیبت آتی ہے تو ” انالله وانا الیہ راجعون“ پڑھتا ہے۔ جب اس کو کوئی نعمت ملے تو الحمدلله کہتا ہے اور جب کوئی گناہ ہو جائے تو استغفر الله پڑھتا ہے۔ (کنز العمال:15/362، درالمنثور:1/286)

٭… حضرت سعید بن مسیب سے مرفوعاً روایت ہے کہ جس شخص نے چالیس سال کے بعد ” انالله وانا الیہ راجعون“ پڑھا تو الله تعالیٰ اس کو وہی ثواب دیں گے جو مصیبت پہنچنے کے دن دیا تھا۔ (درالمنثور:1/287)

٭… حضرت امّ سلمہ سے روایت ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے پھر وہ اس دعا کو پڑھتا ہے جس کا حکم الله نے دیا یعنی ” انالله وانا الیہ راجعون، اللھم آجرنی فی مصیبتی، واخلف لی خیراً منہا“ الله تعالیٰ اس کو اس کا اچھا بدلہ دیتے ہیں۔

حضرت ام سلمہ  فرماتی ہیں: جب میرا شوہر ابو سلمہ فوت ہو گیا تو میں نے کہا ابو سلمہ سے کون سا مسلمان میرے لیے بہتر ہوسکتا ہے ؟ پھر جب میرا نکاح حضور صلی ا لله علیہ وسلم سے ہوا، بات سمجھ میں آگئی۔الله نے مجھے ابو سلمہ سے بہتر حضور صلی الله علیہ وسلم عطا کیا۔ یہ ہے اس دعا کی برکت۔ (ترمذی:1/192، ابن ماجہ،ص:114، مشکوٰة:1/141)