بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آپ صلی الله علیہ وسلم کی تبلیغی مقاصد میں ثابت قدمی!

آپ صلی الله علیہ وسلم کی تبلیغی مقاصد میں ثابت قدمی!

مولانا محمد زکریا نعمانی

آپ صلی الله علیہ وسلم کی پوری حیات ِ طیبہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے، زندگی کے ہر ہر پہلو میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے اعمال واقوال سے ہمیں ہدایت ملتی ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم کی پوری زندگی اسلام کی سربلندی کے لیے جد وجہد میں گزری ہے۔آپ صلی الله علیہ وسلم کو خاتم النبیین بنا کر بھیجا گیا ہے،جس کی وجہ سے اب رہتی دنیا تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، لہٰذا امت کی ہدایت کا فریضہ اب تمام انبیائے کرام سے بڑھ کر ہو گیا، حضور صلی الله علیہ وسلم نے اسی جذبے سے جاں فشانی او رمحنت کے ساتھ تبلیغ کا کام سر انجام دیا، آپ صلی الله علیہ وسلم کے راستے میں کئی رکاوٹیں اور مشکلات آئیں، لیکن سب کو اُمت کی خاطر سہہ گئے اور تبلیغ کے دوران پیش آنے والی آزمائش سے سرخ رو ہوتے رہے، اگرچہ بسا اوقات کچھ امتحانات ایسے بھی آئے کہ جہاں اچھے اچھوں کے قدم ڈگمکا جائیں، لیکن نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اپنی محبوب امت کی خاطر ان امتحانات سے بھی گزرتے رہے او راپنے مقصد سے ذرا بھی پیچھے نہیں ہٹے۔

مکے کی تیرہ سالہ مشکل زندگی میں آپ صلی الله علیہ وسلم کبھی اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے، حالاں کہ اس پورے عرصے میں کافروں کی طرف سے آپ کو بارہا ستایا گیا، ڈرایا گیا، دھمکایا گیا، نبوت کے ساتویں سال کفار قریش نے بنو ہاشم سے معاشرتی بائیکاٹ کیا، وہ وقت بھی آپ صلی الله علیہ وسلم کے لیے کڑا امتحان کا وقت تھا، جہاں دین اسلام کی حقانیت کی آواز دبانے کے لیے تمام کفار قریش نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بنو ہاشم سے ہر طرح کے تعلقات ختم کر لیے جائیں، تاکہ حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم بھوک اور تنہائی سے تنگ آکر اسلام کی تبلیغ کرنا ترک کر دیں، یہ بائیکاٹ تین سال تک جاری رہا ، ان تین سالوں میں مسلمانوں نے شعب ابی طالب جو کہ ایک تنگ گھاٹی ہے، میں پناہ لی، مسلمانوں تک بہت مشکل سے کھانے پینے کا سامان آتا تھا، بسا اوقات کئی کئی وقت کھانا نہیں آتا تھا، جس کی وجہ سے مجبوری میں درختوں کے پتے اور جڑی بوٹیاں کھا کر گزارہ کرنا پڑتا تھا، لیکن پھر بھی آپ صلی الله علیہ وسلم اپنے مقصد سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے، بلکہ ہر آنے والا امتحان آپ صلی الله علیہ وسلم کے عزم وہمت کو مزید پختہ کرتا رہا۔

طائف کے علاقے میں جب آپ تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے تو وہاں کے اوباش نوجوانوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے جسم اطہر کو پتھر مار مار کر لہولہان کر دیا، آپ صلی الله علیہ وسلم کے جوتے خون سے بھر گئے، آپ صلی الله علیہ وسلم کو سخت تکلیف پہنچی، حضرت جبرائیل امین نے اس وقت پیغام پہنچایا کہ اگر آپ چاہیں توہم ان لوگوں کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دیں گے، لیکن حضور صلی الله علیہ وسلم نے منع کیا اور فرمایا”اگر یہ بد نصیب لوگ ایمان نہیں لائے ہیں تو کیا ہوا، مجھے الله کی ذات سے پوری امید ہے کہ شاید ان کی نسل سے کوئی ایسا پیدا ہو جو الله پر ایمان لے آئے۔“ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس وقت بھی دشمن کو بد دعا کے بجائے دعا دی اور الله کی ذات سے امید لگائے رکھی، الله سے ناامید نہیں ہوئے او راپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے اور نہ حالات سے بد دل ہوئے، بلکہ اپنے مشن پر لگے رہے اور لوگوں کو راہ راست پر لانے کی تبلیغ کرتے رہے اور ہر مصیبت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے اور ہمیں یہ سبق دیا کہ حالات چاہے کتنے مشکل کیوں نہ ہوں، لیکن آپ اگر حق پر ہوں تو کام یابی ضرور آپ کے قدم چومے گی اور راستے کے تمام مصائب خود ہٹتے چلے جائیں گے۔

غزوہٴ احد کے موقع پر جب دشمنوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور آپ کو شہید کرنا چاہا تو بہت سارے صحابہ کرام  متزلزل ہو گئے اورسمجھے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں، لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم کے صحبت یافتہ بہت سارے جاں نثار اور وفادار صحابہ کرام اس وقت آپ صلی الله علیہ وسلم کے لیے ڈھال بن گئے او رجانوں کی پروا کیے بغیر آپ صلی الله علیہ وسلم کی حفاظت کرتے رہے، اس غزوہ میں آپ صلی الله علیہ وسلم کو کافی زخم آئے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے دندان مبارک بھی شہید ہوئے، لیکن اس وقت بھی آپ مشکلات سے گھبرا کر پیچھے نہیں ہوئے، بلکہ حکم ِ خدا وندی کو پورا کرنے کے لیے ہر آزمائش کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔

کفار کی جانب سے مختلف سختیوں اور مظالم کے باوجود جب مکہ فتح ہوا اور مسلمان لاؤ لشکر کے ساتھ مکہ پہنچے تو دشمن بالکل سامنے تھے اور بے یار ومدد گار تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم چاہتے تو سب سے بدلہ لے سکتے تھے، لیکن قربان جاؤں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی رحیم ذات پر کہ انہوں نے تمام دشمنوں کو معاف کر دیا اور رہتی دنیا تک انسانیت کو یہ سبق دیا کہ بدلہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ حکم ِ خدا وندی کو پورا کرنے کے لیے ہوتا ہے، مقصد کے لیے ہوتا ہے۔ جہاں ذاتیات آجائیں وہاں مقصد نہیں ہوتا، مقصد کا حصول ذاتیات سے بڑھ کر ہوتا ہے، کام یابی کے لیے انسان کو اپنے ذاتی معاملات قربان کرنے پڑتے ہیں۔

مکے سے مدینے کی طرف ہجرت کرنے کے بعد وہاں کے مسلمانوں کو اخوت او ربھائی چارگی کا عظیم درس دیا، انہیں مواخات کی صفت سے متعارف کرایا، وہ صفت آج بھی عربوں کے اندر پائی جاتی ہے، دنیا بھر سے جانے والے لاکھوں حاجیوں کا دل کھول کر استقبال کیا جاتا ہے، ان کا خیا ل رکھا جاتا ہے، ان کی میزبانی کی جاتی ہے، یہ وہی مواخاة کا درس ہے جسے چودہ سو سال پہلے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے سکھایا تھا، اس درس کی بنا پر انصار او رمہاجرین آپس میں بھائی بھائی بن گئے تھے او راخوت کی عظیم مثال قائم کی تھی۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو دنیا کی سب سے اچھی تعلیم دی ، الله پاک نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے تمام تعلیمات سے بہرہ مند فرمایا، اس کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم نے امت کی آسانی کی خاطر ان تعلیمات کو تفصیل کے ساتھ صحابہ کرام  کے سامنے بیان کیا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اخلاقیات، ایمانیات، عبادات، معاشرت او رمعاملات سکھائے، اچھے طور طریقوں سے ہم کنار کرایا، معاشرتی آداب سے روشناس کرایا، بیوی بچوں کے حقوق سکھائے، اس تعلیم کی روشنی میں مدینہ میں بہترین معاشرہ وجود میں آیا، جہاں ایک آدمی دوسرے آدمی کا خیال رکھتاہے، ایک بھائی اپنے بھائی کے لییوہی پسند کرتا ہے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ یہی تعلیمات آج بخاری، مسلم، ترمذی ، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، طحاوی اور مسند ابوحنیفہ رحمہم الله کے نام سے موجود ہیں۔ پھر ان احادیث کی روشنی میں فقہائے کرام نے ہزاروں مسائل مستنبط کیے اور یہ مسائل قدوری، ہدایہ، کنز الدقائق او رمختلف فتاوی کی کتابوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی عملی زندگی سے اُمّت کو ازدواجی زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا، ایک سے زائد ازواج مطہرات کے درمیان بہترین عدل قائم فرما کر ان لوگوں کے لیے روشن مثال چھوڑی جو ایک سے زائد شادیاں کرنا چاہتے ہوں، سب ازواج مطہرات کے لیے باری مقرر کی، تاکہ کسی کا حق تلف نہ ہو، پوری زندگی اسی پر کار بند رہے، یہاں تک کہ زندگی کے آخری دنوں میں آپ اپنی سب سے محبوب زوجہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے پاس رہنا زیادہ پسند فرماتے تھے، لیکن اس کے باوجود آپ صلی الله علیہ وسلم عدل کی پاس داری کرتے رہے، یہاں تک کہ ازواج مطہرات نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے پاس رہنے کی اجازت دے دی۔

زندگی کے آخری ایام میں حجة الوداع کے موقع پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے تاریخی خطبہ دے کر تمام مسلمانوں کو یہ بتایا کہ الله کے نزدیک سب سے بہترین شخص وہ ہے جوزیادہ تقویٰ والا ہو، قرآن مجید میں ارشاد ہے : ﴿إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ﴾․(الحجرات:13) (تم میں الله کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو) لہٰذا سب سے اچھا شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار، اچھے اخلاق والا اور نیک اعمال والا ہو، ورنہ سارے انسان برابر ہیں، کسی گورے کو کالے اورکسی امیر کو غریب پر کوئی فوقیت حاصل نہیں، سارے مسلمان برابر ہیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ماتحت لوگوں کے لیے بھی حسن سلوک کا حکم دیا، ان کو وہی کھلانے او رپہنانے کا حکم دیا جو انسان خود کھائے اور پہنے، اسی طرح ان سے ایسے کام کروانے کا حکم دیا جو وہ کرسکتے ہوں، ان کی طاقت سے زیادہ ان سے کام کروانا ہو تو خود بھی ان کا ہاتھ بٹانے کا حکم دیا۔ غلاموں اورماتحت ملازمین کی خطاؤں کو معاف کرنے کا حکم دیا۔ حضرت انس رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت کی، لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس دوران ایکمرتبہ بھی نہ مجھے ڈانٹا ،نہ یہ سوال کیا کہ یہ کیوں کیا اور یہ کیوں نہ کیا؟

آپ صلی الله علیہ وسلم کی پوری زندگی عدل ، وفا، قربانی او راچھے اخلاق سے معمور ہے، اگر کوئی کام یاب زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اسے حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم کی زندگی کو اپنانا چاہیے، آپ صلی الله علیہ وسلم کے اسوہ کو اپنانے کے بعد وہ کبھی بھی ناکام نہیں ہوسکتا، کیوں کہ الله پاک نے صحابہ کرام کے لیے جنت اور رضا مندی کی ضمانت دے دی ہے، لہٰذا جو آپ صلی الله علیہ وسلم کے بتائے ہوئے او رعمل کیے ہوئے طریقے پر زندگی گزارے گا نہ صرف اس کی دنیا وآخرت اچھی ہو گی، بلکہ وہ دوسروں کے لیے بھی قابل اتباع ہو گا، لوگ اس کو رشک کی نگاہوں سے دیکھیں گے، اس کی عزت کریں گے ،اسے اپنا سربراہ مانیں گے، شرط بس اتنی ہے کہ بندہ اخلاص اورصبر کے ساتھ ایک ایک سنت پر عمل پیرا رہے، سنت کے مطابق زندگی گزارنے میں ہزاروں مشکلات اور رکاوٹیں آئیں گی لیکن ہر رکاوٹ اور مشکل کا ڈٹ کر سامنا کرتے ہوئے ایمان اور اسلام کے ساتھ حضور صلی الله علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے اس دنیا سے چلا جائے، پھر مرتے وقت کلمہ بھی نصیب ہو گا او رجنت میں حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم کی معیت بھی حاصل ہوگی، کیوں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے : ”المرء مع من أحب “آدمی کا حشر اس کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ الله پاک ہم سب کو حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسوہ کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔