بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آوارگی اور حیاباختگی کو روکیے!

آوارگی اور حیاباختگی کو روکیے!

محترم محمد اعجاز مصطفی

الحمد للہ و سلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی

اللہ تعالیٰ سب کا خالق، مالک، مربی اور حاکم ہے، کائنات کی کوئی چیز اس کی تخلیق، ملکیت، تربیت اور حاکمیت سے باہر نہیں۔ اسی نے انسانیت کی فوز و فلاح کے لیے انبیائے کرام علیہم الصلوٰة والتسلیمات کو مبعوث فرمایا اور سب سے آخر میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بناکر، رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے مقتدا، پیشوا اور اُسوہ حسنہ بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں اخلاقی، معاشرتی، سیاسی، سماجی، ازدواجی، خانگی، عائلی اور دنیوی واُخروی زندگی کے تمام مسائل کا حل موجود ومسلَّم ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی گزارنے کے تمام اصول وآداب اور اخلاق وکردار کو اُمت کے سامنے پیش کردیاہے، اس لیے قرآن کریم میں فرمایا گیا:

٭…﴿لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُو اللہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللہَ کَثِیْرًا﴾․ (الاحزاب:21)
”تم لوگوں کے لیے یعنی ایسے شخص کے لیے جو اللہ سے اور روزِ آخرت سے ڈرتا ہو اور کثرت سے ذکرِ الٰہی کرتا ہو رسول اللہ میں ایک عمدہ نمونہ موجود تھا۔“

٭…﴿وَمَآاٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا وَاتَّقُوْا اللہَ اِنَّ اللہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴾․ (الحشر:7)
” اور رسول تم کو جو کچھ دے دیا کریں وہ لے لیا کرو اور جس چیز (کے لینے) سے تم کو روک دیں، تم رُک جایا کرو اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ تعالیٰ (مخالفت کرنے پر) سخت سزا دینے والا ہے۔“

کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے؟!کس کو اپنانا چاہیے اور کس سے اجتناب کرنا چاہیے؟!کن چیزوں کو اختیار کرنے سے ایک صالح اور پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے اور کن چیزوں کو اپنانے کی وجہ سے معاشرہ داغ دار ہوتا ہے؟!یہ سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں واضح فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کو عفت، عصمت، پاک دامنی اور شرم وحیا اختیار کرنے کا درس دیا، جس سے معاشرہ پاکیزہ اور صالح بنتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا معاشرہ تشکیل دیا، جس پر ملائکہ بھی رشک کرتے تھے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے تھے اور اس دائرہ سے باہر جھانکنے کو گناہ، حیا کے خلاف اور حیا کی موت تصور کرتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”لِکُلِّ دِیْنٍ خُلُق،ٌ وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَیَاء ُ“․(ابن ماجہ)
ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیا ہے۔

حیا کا لغوی معنی:تغیُّر وانکساری ہے، جو انسان کے قلوب واذہان میں کسی عیب جوئی کے خوف سے جاگزیں ہوتا ہے۔

حیا کا اصطلاحی معنی:حیا ایسی صفت ہے جو منکرات وقبیح چیزوں سے اجتناب کرنے پر برانگیختہ کرتی ہے اور ادائے حقوق میں کوتاہی اور تقصیر سے منع کرتی ہے۔ (عون المعبود شرح ابی داود)

گویا شریعت کی نظر میں حیا وہ صفت ہے، جس کے ذریعہ انسان بے ہودہ، قبیح اور ناپسندیدہ کاموں سے رُک جاتا ہے۔ دینِ اسلام میں حیا اور پاک دامنی اپنانے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ انسان اسے اپناکر، معاشرہ کو پرامن بنانے میں اہم کردار ادا کرے۔ اور منکرات وفواحش کے قریب جانے سے روکا گیا ہے، تاکہ معاشرہ اَنارکی اور فساد سے بچ جائے۔ حیا انسان کو پاک باز، پرہیزگار، عفت مآب اور صالح انسان بناتی ہے۔ اگر بندے سے کوئی گناہ و معصیت اور لغزش سرزد ہوتی ہے، تو یہ حیا ہی ہے جو اُس کو عار، شرمندگی اور ندامت کا احساس دلاتی ہے۔ باحیا انسان کسی غلط کام کے ارتکاب کے بعد لوگوں کا سامنا کرنے سے جھجھک محسوس کرتا ہے۔ حیا مومن کی صفت، ایمان کی شاخ، ایمان میں داخل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا کہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی سے زیادہ باحیا تھے۔ حیا اسلامی تہذیب وتمدن کے لیے روح کی حیثیت رکھتی ہے اور اسی پر پاکیزہ معاشرہ کی اَساس اور بنیاد ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کے دلوں میں حیا کے جذبات کو پروان چڑھایا، شرم وحیا والی کیفیات سے بہرہ وَر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اچھا معاشرہ بنانے اور اس معاشرہ کے ہر فرد کو اپنی عادات واخلاق کو درست کرنے کے لیے نہایت اہم اور ضروری ہدایات اور تعلیمات دیں۔

قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
٭…﴿قُلْ لِّلْمُوْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ، ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ اِنَّ اللہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ﴾․ (النور:30)
” آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے، بے شک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں ۔“

٭…﴿وَقُلْ لِّلْمُوْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْہَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ﴾․ (النور:30)
اور (اسی طرح) مسلمان عورتوں سے (بھی) کہہ دیجیے کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کے مواقع کو ظاہر نہ کریں، مگر جس (موقع زینت) میں سے (غالباً) کھلا رہتا ہے (جس کے ہر وقت چھپانے میں حرج ہے) اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھا کریں ۔

٭…﴿وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَر﴾ِ (العنکبوت:45)
”اور نماز کی پابندی رکھیے، بے شک نماز (اپنی وضع کے اعتبار سے)بے حیائی اور ناشائستہ کاموں سے روک ٹوک کرتی رہتی ہے۔“

٭…﴿اِنَّ اللہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَاء ِ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ﴾ (النحل:90)
”اللہ حکم کرتا ہے انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا اور قرابت والوں کے دینے کا اور منع کرتا ہے بے حیائی سے اور نامعقول کام سے اور سرکشی سے اور تم کو سمجھاتا ہے، تاکہ تم یاد رکھو۔“

﴿وَلَا تَقْرَبُوْا الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَ مَا بَطَن﴾َ (الانعام:151)
” اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاو، خواہ وہ علانیہ ہوں اور خواہ پوشیدہ ہوں ۔“

٭…﴿قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ ﴾․(الاعراف:33)
”آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے حرام کیا ہے تمام فحش باتوں کو، اُن میں جو اعلانیہ ہیں وہ بھی اور ان میں جو پوشیدہ ہیں وہ بھی اور ہر گناہ کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو “۔

٭…﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنیٰ اِنَّہ کَانَ فَاحِشَةً، وَسَاءَ سَبِیْلًا﴾․ (بنی اسرائیل:32)
” اور زنا کے پاس بھی مت پھٹکو، بلاشبہ وہ بڑی بے حیائی کی بات ہے اور بری راہ ہے۔“

٭…﴿اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللہُ یَعِدُکُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْہُ وَفَضْلًا﴾․ (البقرة:268)
”شیطان وعدہ دیتا ہے تم کو تنگ دستی کا اور حکم کرتا ہے بے حیائی کا اوراللہ وعدہ دیتا ہے تم کو اپنی بخشش اور فضل کا“ ۔

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
٭… ایک مرد دوسرے مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور نہ ہی کوئی عورت دوسری عورت کے ستر کو دیکھے۔ کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ اورکوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے ۔ (مسلم، کتاب الحیض)

٭…حضرت یعلیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کھلی جگہ (میدان) میں ننگے نہاتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نہایت باحیا اور سترپوش (عیب پوش) ہے، وہ حیا اور پردہ کو پسند کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی شخص نہائے تو پردہ کرے ۔ ( سنن ابی داود، جلد سوئم، کتاب الحمام:4012)

٭…حضرت جرہد رضی اللہ عنہ اصحابِ صفہ میں سے تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف فرماتھے اور میری ران ننگی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ران ستر (میں شامل) ہے؟!۔ (سنن ابی داود، جلد سوئم، کتاب الحمام:4014)

٭…حضرت علی کرم اللہ وجہہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ران سے کپڑا مت اُٹھاؤ، کسی زندہ کی ران دیکھو، نہ مردہ کی۔ ( سنن ابی داود، جلد سوئم، کتاب الحمام:4015)

٭…حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لوگوں نے سابقہ انبیاء علیہم السلام کے کلام میں سے جو حاصل کیا ہے، وہ یہ ہے کہ جب تم حیا نہ کرو، تو پھر جو چاہو کرو۔ (سنن ابی داود، جلد سوئم، کتاب الحمام:3797)

٭…حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امِ خلد نامی عورت نقاب کیے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ اپنے مقتول (شہید) بیٹے کے بارے میں دریافت کررہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے کہا:آپ اپنے (شہید ہونے والے) بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی ہیں اور (اتنی مصیبت اور غم کے باوجود) آپ نقاب کیے ہوئے ہیں؟ اس (عظیم خاتون) نے کہا: اگرچہ میرا لختِ جگر فوت ہوگیا ہے، لیکن میری حیا تو فوت نہیں ہوئی۔ ( سنن ابی داود، جلد سوئم، کتاب الحمام:4488)

٭…حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:چار چیزیں سب پیغمبروں کی سنت ہیں، شرم اور عطر لگانا اور مسواک کرنا اور نکاح کرنا۔ (جامع ترمذی، جلداول، باب النکاح:1079)

٭… حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی مرد جب بھی کسی غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ (ترمذی)

٭… حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا:اے علی!غیرمحرم عورت پر ایک نظر پڑنے کے بعد دوسری نظرنہ دوڑاؤ، اس لیے کہ پہلی نظر تمہارے لیے معاف ہے اور دوسری نظر تمہارے اوپر وبال ہوگی۔ (ترمذی )

٭… حضر ت بہز بن حکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنی شرم گاہ کو بیوی اور لونڈی کے علاوہ کسی کے سامنے ظاہر نہ کرو، میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! اگر کوئی آدمی تنہا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:تو اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم وحیا کی جائے۔ (ترمذی)

٭… حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جن عورتوں کے خاوند گھر میں موجود نہیں ہوتے ان کے ہاں نہ جایا کرو، شیطان تم میں سے ہر آدمی کے ساتھ اس طرح گھل مل جاتا ہے جیسے خون جسم میں جاری رہتا ہے۔ (ترمذی)

٭…حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تین اشخاص ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کردی ہے۔ہمیشہ شراب پینے والا۔والدین کا نافرمان۔وہ بے غیرت جو اپنے گھر میں بے حیائی کو (دیکھنے کے باوجود اُسے) برقرار رکھتا ہے۔ (احمد، نسائی)

٭…حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بری بات جہاں کہیں بھی ہو قابلِ ملامت ہے، اور شرم وحیا جہاں کہیں بھی ہو باعثِ فخر ہے ۔ (ترمذی)

یہ وہ چند احادیث تھیں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو پاک دامنی اور شرم وحیا کے متعلق ہدایات اور تعلیمات عطا کی ہیں۔

شریعت نے شرم وحیا کی بقا ، توالد وتناسل کے سلسلہ کو آگے بڑھانے اور مردوعورت کی جنسی تسکین کے لیے نکاح جیسے خوب صورت بندھن کا حکم دیا، جس کے نتیجہ میں مرد اور عورت کا آپس میں مودت ورحمت کا رشتہ قائم ہوتا ہے، پھر اس کے ذریعہ رشتہ داریاں، خاندان، معاشرہ اور سماج وجود میں آتا ہے۔ عورت کے چار درجات اور مقام ہیں اور چاروں کو اللہ تعالیٰ نے عزت وعظمت عطاکی ہے:

عورت اگر ماں ہے تو اس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے، عورت اگر بیٹی ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت، عورت اگر بہن ہے تو اس کی پرورش، تربیت اور اچھی جگہ رشتہ کردینے پر جنت کی ضمانت، عورت اگر بیوی ہے تو مرد کا لباس اور دنیا کی بہترین متاع اس کو قرار دیا گیا۔

آج معاشرہ میں بے راہ روی، آوارگی اور حیا باختگی کے کئی عوامل ہیں:
٭…اسلام نے زندگی گزارنے کے لیے جو ہدایات اور تعلیمات دی ہیں، آج کے معاشرہ کی اکثریت نے ان تعلیمات کو پڑھنے، سمجھنے، انہیں عام کرنے اور ان پر عمل کرنے کی ہرگز ہرگز کوشش نہیں کی۔

٭…اسلام نے عورت کو پردہ کا حکم دیا، اس کو دلوں کی پاکیزگی کا ذریعہ اور شریف زادیوں کا شعار قرار دیا۔ اسلام نے عورت کو عزت وعظمت دی، وقار اور سربلندی کا تاج اس کے سرپر رکھا، اس کو گھر کی ملکہ بنایا، جس سے گھر کا چراغ روشن ہوتا ہے، جس کی وجہ سے گھر میں آرام اور سکون ملتا ہے، مرد اور اولاد کے لیے گھر میں رہنا باعث ِراحت بنتا ہے، لیکن اسلام کے اس نظریہ کے برعکس مغربی تہذیب کے دل دادہ لوگ عورت کو گھر کی بجائے شمعِ محفل اور سامانِ عیش بناکر بازار میں گھسیٹ لے آئے۔ ایسے لوگوں نے عورت کی عزت وعظمت، وقار وشرافت، پردہ، چادر اور چار دیواری کے وقار کو نہ صرف یہ کہ بٹہ لگایا، بلکہ بچوں کی تربیت اور شوہر کے حقوق کو بھی پامال کرایا، یوں مساوات کا سبز باغ دکھاکر مغربی تہذیب سے مرعوب طبقہ نے اس صنف ِنازک پر بہت بڑا ظلم کیا ہے۔

٭…مردوزن کے اختلاط سے شریعت نے منع کیا، لیکن مغربی نقالی میں ہمارے معاشرے نے بھی مخلوط تعلیمی نظام کو رواج دیا، جس کے آج بھیانک نتائج سامنے آرہے ہیں اور آئے دن اخبارات میں یہ خبریں چھپتی ہیں کہ چھوٹی چھوٹی معصوم بچیاں اور کلیاں ان آوارہ گردوں اور حیاباختہ درندوں کی بھینٹ چڑھ کر کچل اور مسل دی جاتی ہیں۔ مغربی تہذیب نے انسانیت کو حیوانیت کے قالب میں ڈھال کر مکمل درندہ صفت انسان بنادیا اور اسی تہذیب کے متوالے آنکھیں بند کرکے اس کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں اور آج سماج میں اس کو شریف اور مہذب سمجھا جاتا ہے جو سر سے پاوں تک مغربیت میں ڈھلا ہوا ہو، وضع قطع، عادات واطوار، رہن سہن، غرض زندگی کے تمام نشیب وفراز میں جو جتنا مغربی تہذیب کا نقال ہوگا، وہ اتنا مہذب شمار ہوگا، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج حیاباختگی کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بیوی شوہر کی ضرورت محسوس نہیں کررہی اور شوہر بیوی کی پروا نہیں کررہا۔ لڑکے اور لڑکیاں نکاح کو اپنے لیے قید اور بے حیائی کو اپنے لیے آسان اور سستا سمجھ رہے ہیں۔ آئے دن طلاقوں کی شرح بڑھتی جارہی ہے اور آج میرا جسم میری مرضی کو فروغ دیا جارہا ہے۔ آج خاندان سے سکون واطمینان رخصت ہوچکا ہے، انسانیت جیتے جی مررہی ہے، گھر برباد ہورہے ہیں، نسلیں تباہ ہورہی ہیں، حیا لٹ رہی ہے، جوانیاں داغ دار ہورہی ہیں، بیٹیوں کی عفت نیلام ہورہی ہے۔ آج کے حیاباختہ معاشرے نے رشتوں کے احترام اور تقدس کو پاوں تلے روند ڈالا ہے، ہر شخص اپنے لذتِ تن بدن کی تکمیل میں لگا ہوا ہے، نہ ماں کا تقدس ہے، نہ باپ کا احترام، نہ بیوی کی قدر ہے اور نہ بیٹی کی پہچان۔ غلط، بے حدود اور بے لگام راہیں انسان کو اچھی لگنے لگی ہیں، جس سے سماج بکھرتا جارہا ہے۔

ایک باشعور اور عقل وخِرد کا حامل انسان یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ موجودہ دنوں میں اسلام آباد کے پوش علاقہ میں ایک خاتون نور مقدم کا قتل ظاہر ذاکر نامی شخص نے کیا ہے، یہ تو دونوں کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، دونوں لبرلز تھے، میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے والے تھے، پھر ایک دوسرے کے دشمن کیوں ہوگئے؟ سوچیے اور بار بار سوچیے!آخر اس میں کس کس کا قصور اور کس کس سے کہاں کہاں کوتاہی ہوئی ہے؟ ماں، باپ، اساتذہ، تعلیم، تہذیب، ماحول، معاشرہ، مال ودولت، بے محابا آزادی اور اسلامی تہذیب کی بجائے مغربی طرزِ تعلیم اورطرزِ تہذیب؟ یا وہ جو کہتے ہیں کہ اولاد جب جوان ہو تو اس کی مرضی جو وہ چاہے کرے، دوسروں کو ان کی زندگی میں مداخلت کا کوئی حق نہیں، غیرمردوں اور غیرعورتوں کی دوستی کا کوئی مسئلہ نہیں، دونوں اپنی مرضی سے بغیر شادی کے اگر ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیں تو اس میں بھی کوئی قباحت نہیں، آخر کون ہے جو ان دونوں کو اس انجام تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے؟ کون اس کا قصور وار ہے؟ خدارا! اس ہول ناک اور دہشت ناک واقعہ سے ہر اس مرد اور عورت کو عبرت پکڑنی چاہیے، جو اس جیسے ماحول اور آزادی کا طلب گار ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ؤ…﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ،ا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ ، وَاللہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾․ (النور:19)
” جو لوگ چاہتے ہیں کہ چرچا ہو بدکاری کا ایمان والوں میں اُن کے لیے عذاب ہے درد ناک، دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔“

٭…﴿وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰی وَھِیَ ظَالِمَةٌ ، اِنَّ اَخْذَہٓ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ﴾․ (ھود:102)
”اور ایسی ہی ہے پکڑ تیرے رب کی جب پکڑتا ہے بستیوں کو اور وہ ظلم کرتے ہوتے ہیں، بے شک اس کی پکڑ دردناک ہے شدت کی“۔

قومِ لوط پر جو عذاب آیا، ان کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ وہ قوم شرم وحیا سے عاری ہوچکی تھی، بے حیائی کے کام بھری محفلوں اور مجلسوں میں کرتی تھی، ان کی حرکات، سکنات، اشارات وکنایات اور ان کے محلے اور بازار سب کے سب عریانی، فحاشی، آوارگی اور حیاباختگی کا مرقع بن چکے تھے۔ آج کی سیکولر تہذیب نے بھی انسانیت کو اس تباہی وبربادی اور ہلاکت کے دَہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔

آج کی عورت اگر اپنی زندگی صحیح اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے تو دنیا کی کوئی طاقت اُن کو شہوت کی نگاہ سے دیکھنے کی تو دور کی بات ہے، اپنے تصور میں بھی نہیں لائے گی اور عورت اپنی تمام تر خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہوکر اپنے شوہر کے لیے نیک رفیقِ سفر، والدین کے لیے چشمہ رحمت، بھائی کے لیے گل دستہ محبت، اولاد کے لیے گہوارہ اُلفت وچاہت اور سارے معاشرے کے لیے نیک بخت اور نیک سیرت کا مجموعہ بن کر ساری دنیا کو جنت نما بناسکتی ہے اور دنیا میں پھیلنے والی تمام برائیوں کا سدِباب بن کر انسانیت کو بھولا ہوا سبق یاد دلاسکتی ہے اور انسانیت کو جہنم کے دہانے سے دور کرکے جنت کی لازوال نعمتوں کی طرف پھیرسکتی ہے۔ بہرحال مرد ہوں یا خواتین، حکم ران ہوں یا رعایا، علماء ہوں یا عوام، سب کو اس معاشرہ سے اس بے حیائی وبے شرمی کو ختم کرنے کی اپنی سی استطاعت اور کوشش ضرور کرنی چاہیے، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

٭…﴿یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا﴾․(التحریم:6)
”اے ایمان والو!تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی) اس آگ سے بچاو“ ۔

اور اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
٭…﴿یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللہِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَیُدْخِلَکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ﴾․ (التحریم:8)
” اے ایمان والو!تم اللہ کے آگے سچی توبہ کرو، (توبہ کا ثمرہ فرماتے ہیں کہ)اُمید (یعنی وعدہ)ہے کہ تمہارا رب (اس توبہ کی بدولت)تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تم کو (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی“۔

٭…﴿وَتُوْبُوْٓا اِلَی اللہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُوْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾․ (النور:31)
”اور توبہ کرو اللہ کے آگے سب مل کر اے ایمان والو!تاکہ تم بھلائی پاو“۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہماری قوم کو سمجھ عطا فرمائے، ہم سب کے حال پر رحم فرمائے، اللہ تعالیٰ کے احکامات اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کی توفیق سے نوازے اور ہم سب کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین․

وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سیدنا محمد و علٰی آلہ و صحبہ اجمعین․