بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آم فوائد سے مالا مال ثمر

آم فوائد سے مالا مال ثمر

محترم عمران سجاد

آم کھانے کا موسم پھر آگیا۔ اپنے اپنے موسم میں ہر پھل خوب کھایا جاتا ہے، لیکن جس کثرت اور رغبت سے آم کھایا جاتا ہے، دنیا کا شاید ہی کوئی پھل کھایا جاتا ہو۔ پاکستان اور ہندوستان آم کا گھر کہلاتے ہیں۔ بہترین آم اُسے سمجھا جاتا ہے، جو بے حد شیریں او ربے ریشہ ہو۔ آم موسمِ گرما کا معروف اور لذیذ ترین پھل ہے۔ اسے پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ یہ اپنے منفرد ذائقے اور لذت کی وجہ سے نہ صرف پاکستان اور ہندوستان، بلکہ دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ یہ بچوں اور بڑوں کا سب سے پسندیدہ پھل ہے۔ آم پر تو مرزا غالب اور علامہ اقبال بھی فدا تھے۔

کئی اقسام کے آم پاکستان میں کاشت کیے جاتے ہیں، مثلاً سرولی، لنگڑا، دسہری، انور رٹول، سندھڑی، چونسا، فجری، سفیدہ مال دار، فضلی، ثمر بہشت اور توتاپری وغیرہ۔ آم کی طرح اور پھلوں کی شاید ہی اتنی اقسام ہوں۔ آم خون صاف کرتا اور آنتوں، مثانے، معدے، دل، دماغ اور جگر کو قوی کرتا ہے۔ یہ بھوک بڑھاتا ہے، اسے کھانے سے پیشاب کھل کر آتا ہے۔ پکا ہوا آم قلب کو تقویت دیتا ہے۔

آم کی دو بڑی قسمیں ہیں
قلمی اور تخمی۔ قلمی کو پیوندی بھی کہتے ہیں، جسے دو مختلف قسموں کی ٹہنیوں کو آپس میں ملا کر حاصل کیا جاتا ہے۔ اس قسم میں مٹھاس او رگودازیادہ ہوتا ہے۔ قلمی آم دیر ہضم اور ثقیل ہوتا ہے، جب کہ تخمی آم زود ہضم ہوتا ہے۔ یہ چوں کہ صرف اپنی گٹھلی سے درخت بنتا ہے، اس لیے تخمی آم کہلاتا ہے۔ تخمی آم کا رس چُوسا جاتا ہے اور قلمی آم کو کاٹ کر کھایا جاتا ہے۔ پکا ہوا آم میٹھا، نہایت لذیذ اور فرحت بخش ہوتا ہے اور ہر عمر کے افراد کے لیے مفید ہے۔ کھٹا آم اتنا لذیذ اور مزے دار نہیں ہوتا، لیکن اسے کھانے سے بھوک بڑھ جاتی ہے۔ یہ صرفے کی زیادتی کو ختم کرتا ہے۔ اس سے گردے او رمثانے کی پتھری ٹوٹ کر خارج ہو جاتی ہے۔ کھٹا آم آنکھوں کے مرض شب کوری کو دُور کرنے میں بھی فائدہ مند ہے۔

آم میں گلوکوز او رحیاتین الف، ج ( وٹامنز اے، سی) زیادہ مقدار میں ہوتی ہیں۔ آم میں لحمیات (پروٹینز) کم ہوتی ہیں، البتہ نشاستہ (کاربوہائڈریٹ) اور شکر کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں فاسفورس، فولاد، کیلشیم اور پوٹاشیم بھی پائے جاتے ہیں، جس کے باعث یہ بہت توانائی بخش پھلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آم میں حرارے(کیلوریز) کم ہوتے ہیں۔ بیٹا کیروٹین او رنمکیات بھی آم میں پائے جاتے ہیں، جو صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ آم پھیپڑوں، ہڈیوں کے گودے، چھاتی، بڑی آنت اور غدہٴ قدامیہ (پروسٹیٹ گلینڈ) کے سرطانوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

آم قبض کشا او رمقوی باہ پھل ہے۔ اس کے پتوں میں ایک ایسا خاص قسم کا جزوپایا جاتا ہے، جو مانع وائرس ہے اور داد کی بیماری دُور کرنے میں اکسیر ہے۔ بواسیر کی شکایت دور کرنے کے لیے آم کی کچیّ کو نپلوں کا جو شاندہ پینا مفید ہوتا ہے۔ یہ کونپلیں بواسیر کے خون کو روک دیتی ہیں۔ آم کے پتے، گوند، گٹھلی او رچھال ادویہ میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

اسہال کے خاتمے اور ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے مریض کو آم کے پتوں کا سفوف کھلایا جاتا ہے۔ آم کھانے سے خون میں کولیسٹرول کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ روزانہ ایک دوآم کھانے سے ہاضمے کا نظام درست رہتا ہے۔ کچا آم گرمی، متلی، قے دُور کرتا اور پیاس بجھاتا ہے۔ اسے کھانے سے لُو بھی نہیں لگتی، لیکن یہ آم زیادہ مقدار میں نہیں کھانا چاہیے۔

خون کی کمی میں مبتلا افراد کو روزانہ آم کھانے چاہییں اور آم کھانے کے بعد دودھ ضرور پینا چاہیے۔ چند دنوں میں خون کی کمی جاتی رہے گی اور ان کے چہروں کی زردی ختم ہو کر سُرخی جھلکنے لگے کی۔ خون کی خرابی کی شکایت میں، جب کہ جِلدی شکایات بھی لاحق ہوں تو آم کھانے کے بعد لسّی پینی چاہیے۔ اس طرح جلدی تکالیف بہت جلد ختم ہو جاتی ہیں اور چہرے کا رنگ بھی نکھر جاتا ہے۔

حاملہ خواتین کے لیے آم بہت فائدہ مند ہے۔ اسے کھانے سے انہیں قبض نہیں ہوتا، بھوک خوب کھل کر لگتی ہے او راُن کے ہاں صحت مند، خوب صورت اور توانا بچہ پیدا ہوتا ہے۔ جو خواتین بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہوں، انہیں آم ضرور کھانا چاہیے، اس سے دودھ زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔

آم کی چٹنی بہت لذیذ ہوتی ہے۔ اس میں لہسن شامل کرکے کھانے سے اختلاج قلب کی شکایت جاتی رہتی ہے۔ آم کا اچار ہاضمے کو قوی کرتا ہے، لیکن اسے مناسب مقدار میں ہی کھانا چاہیے۔ آم کا مربّا بے حد فرحت بخش اور مقوی ہوتا ہے۔ اپنے ذائقے کی وجہ سے اسے بہت پسند کیا جاتا ہے۔ گرمی او رحبس کے دنوں میں اس کا کھانا مفید ہے۔