بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آملہ حیرت انگیز صفات کا حامل پھل

آملہ حیرت انگیز صفات کا حامل پھل

محترم شیخ عبدالحمید عابد

برصغیر میں پانچ ہزار سال سے آملہ حکیموں اور طبیبوں کی توجہ کا مرکز چلا آرہا ہے۔ یہ امراض دُور کرنے کے لیے کھایا جاتا ہے ۔ پھیپھڑوں کے امراض، حیاتین”ج“(وٹامن سی) کی کمی، خون میں تیزابیت، خفقان، اسہال، نزلہ وزکام او ربالوں کی کم زوری جیسے امراض میں اس کا کھانا اور استعمال کرنا بہت فائدہ دیتا ہے۔ آملہ پاکستان او رہندوستان میں پائے جانے والے ایک درخت کا پھل ہے۔ یہ دیگر قدرتی جڑی بوٹیوں او رپھلوں کی طرح انتہائی مفید ہے۔ آملے کی دو قسمیں ہیں: ایک جنگلی یا پہاڑی، جب کہ دوسری کو پیوندی کہتے ہیں۔ یہ ہندوستان کے ساحلی، جب کہ پاکستان کے گرم علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ آملہ تازہ حالت میں سبز اور گودے دار ہوتا ہے، جب کہ خشک ہونے کے بعد سیاہ ہو جاتا ہے او ردو حصوں میں ٹوٹ جاتا ہے۔ آملے کا ذائقہ ترش اور قدرے تلخ ہوتا ہے۔ اس کا گودا ترش وکسیلا اور تیزابی ہوتا ہے۔ اطبّا کی اکثریت اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ آملہ ہندوستان میں پانچ ہزار سال سے بطور دوا کھایا جارہا ہے اور طب ہندی میں اسے ایک اہم مقام حاصل ہے۔ یونان کے طبیب بھی ہندی طبیبوں کے ذریعے ہی اس مشہور درخت کے پھل سے متعارف ہوئے۔

یورپ او رامریکا کی جدید تحقیق کے مطابق آملے میں سات سو سے ایک ہزار ملی گرام تک حیاتین”ج“ ہوتی ہے، جو کیمیائی یا مصنوعی حیاتین”ج“ کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں جزوِ بدن بنتی ہے۔ اس میں موجود کڑواہٹ یا ترشی جگر کے لیے انتہائی مفید ہوتی ہے۔”حیاتین ج“ کی زیادہ مقدار کھانے کی وجہ سے دانتوں کی بیماری ہو جاتی ہے، اس میں مسوڑے سوج جاتے ہیں اور ان سے خون بہنے لگتا ہے۔ اس مرض میں آملے کو منھ میں رکھ کر چوسنے سے مسوڑے مضبوط ہو جاتے ہیں اور دانتوں سے خون آنا بند ہو جاتا ہے۔ آملہ خون کو صاف رکھتا ہے۔ اس سے تیزابیت کم ہو جاتی ہے۔ اس کے پانی سے آنکھیں دھوئی جاتی ہیں۔ چوں کہ قابض مزاج ہوتا ہے، اس لیے یہ مرض خفقان اور اسہال دُور کرنے میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ قے اور پیاس میں تسکین دیتا ہے۔ بواسیر او رنکسیر کے خون کو روکتا ہے۔ بھوک بڑھاتا ہے، بالوں کی مضبوطی، چمک دمک کو برقرار رکھنے اور انہیں گھنا، لمبا کرنے میں جادوئی اثرات وخصوصیات کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے جوشاندے سے بالوں کو دھوتے ہیں۔ اس سے بالوں میں طاقت آجاتی ہے۔ اسے کھانے سے دماغ میں انجماد خون بھی کم ہو جاتا ہے۔ یہ خون کی کمی، ذیابیطس، پھیپھڑوں کے پرانے امراض اور نزلہ زکام جیسی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم کرتا ہے۔ اس سے قوت ِ مدافعت بڑھ جاتی ہے، جس سے مضر ِ صحت کو لیسٹرول تحلیل ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ سرطان کے خطرات کو بھی کم کرتا ہے۔

آنکھوں کے اکثر امراض میں آملہ بہت مفید ثابت ہوتا ہے، مثلاً آشوب چشم(آنکھیں دکھنا اور سرخ ہونا) او رنظر کی کم زوری وغیرہ۔ اسے باریک پیس کر اور ا س کے ہم وزن شکر ملا کر روغن بادام معمولی شامل کرکے صبح ناشتے سے قبل 20 گرام کی مقدار میں کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ آملے کا مربا اور اچار بھی بنایا جاتا ہے۔ دھوکر چاندی کے ورق میں لپیٹ کر یہ مربّا نہار منھ کھانے سے قلب کو تقویت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ خفقان، دماغ اور معدے کی کم زوری کے لیے بھی مفید ہے۔ یہ دل کی دھڑکن میں اعتدال پیدا کرتا ہے۔ یہ پھوڑے پھنسیوں کو ختم کرنے کے لیے بھی مفید ہے۔ آملے کے رس اور فلفل دراز کو شہد میں ملا کر کھانے سے ہچکی فوراً بند ہو جاتی ہے۔ خواتین بال لمبے کرنے اور انہیں خوب صورت بنانے کے لیے لاکھوں جتن کرتی ہیں، مہنگے شیمپو خریدے جاتے ہیں، جو اکثر اوقات الٹا اثر کرتے اور بالوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جب کہ روغن آملہ بالوں کے لیے انتہائی مفید اور بے ضرر ثابت ہوتا ہے۔ اگر سر کے بال سفید ہو رہے ہوں تو انہیں سیاہ کرنے کے لیے آملہ، ہڑاور بیڑہ ہم وزن مقدار میں لے کر کوٹ لیں اور رات کو کسی لوہے کی کڑاہی یا برتن میں پانی ڈال کر اسے بھگو دیں۔ صبح کو اس کا لیپ بالوں کی جڑوں میں اچھی طرح لگائیں او رایک گھنٹہ بعد سرسادہ پانی سے دھوڈالیں۔ بال سیاہ، گھنے، لمبے اور چمک دار ہو جائیں گے۔

چکر دور کرنے میں بھی آملہ بہت فائدہ مند ہے۔ اس کے لیے آملہ نو گرام، دھنیا نوگرام دونوں کو ملا کر رات کے وقت پانی میں بھگو دیں۔ صبح کو پانی چھان کر مصری یا شکر ملا کر پییں۔ چند روز کے بعد فائدہ ظاہر ہونے لگے گا۔ آملہ ذیابیطس کو قابو کرنے میں بھی بہت مفید ہے۔